LIVE
Loading Breaking News...

کے پی اسمبلی اسپیکر بابر سلیم سواتی کا پولیس چیف کو خط اور تفصیلات طلب

News Image
خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے صوبائی پولیس چیف کو دوسرا خط لکھ کر حراست میں لیے گئے وزراء اور اراکین اسمبلی کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسپیکر کے اس اقدام پر شدید تنقید کی ہے جبکہ اسپیکر نے اسے آئینی استحقاق کا حصہ قرار دیا ہے۔
پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے صوبائی پولیس سے اراکین اسمبلی اور وزراء کی حراست کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے پولیس چیف کو ایک بار پھر خط لکھ دیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب تحریک انصاف کے متعدد ارکان اور حامیوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات ملی تھیں، جن میں پارٹی بانی کی بہنیں اور صوبائی وزراء بھی شامل ہیں۔ اسپیکر بابر سلیم سواتی اس سے قبل بھی صوبائی انسپکٹر جنرل آف پولیس کو ہدایت کر چکے ہیں کہ کسی بھی منتخب قانون ساز کو گرفتار کرنے سے پیشتر ان کی منظوری حاصل کی جائے۔ اتوار کے روز اسپیکر نے سوشل میڈیا پر اپنا دوسرا خط شیئر کیا جو انہوں نے پچیس ستمبر کو لکھا تھا۔ اس خط میں آئین کے آرٹیکل چھیاسٹھ، سڑسٹھ اور ایک سو ستائیس کے علاوہ کے پی اسمبلی کے رولز آف پروسیجر اور پرووینشل اسمبلی ایکٹ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ خط میں پولیس سربراہ سے کہا گیا ہے کہ اسپیکر کی ہدایت کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران حراست میں لیے جانے والے، گرفتار کیے جانے والے یا جن کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، ان تمام اراکین، وزراء اور مشیروں کی مکمل رپورٹ اور ایف آئی آرز فراہم کی جائیں۔ خط میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ جب بھی کسی رکن کو کسی فوجداری الزام میں گرفتار کرنا مقصود ہو یا ایگزیکٹو آرڈر کے تحت حراست میں لیا جائے تو مجسٹریٹ یا متعلقہ اتھارٹی کو اسپیکر سے پیشگی اجازت لینا ہوگی۔ اسپیکر کے مطابق اس آئینی استحقاق کا مقصد ایگزیکٹو کی جانب سے پولیس کے ذریعے منتخب نمائندگان کو دبانے سے روکنا اور اسمبلی کو خوف سے آزاد ہو کر کام کرنے کے قابل بنانا ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسپیکر کے اس اقدام پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ کیا پولیس کسی رکن کے قتل کرنے پر بھی اسمبلی اسپیکر کی اجازت کا انتظار کرے گی۔ وزیر داخلہ نے اس ضابطے کو قانون کی نظر میں برابری کے اصول کے منافی قرار دیا۔ اس کے جواب میں اسپیکر بابر سواتی نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ قانون کا کوئی نیا امتیازی سلوک نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد سیاسی انتقام یا ایوان کے تقدس کو پامال ہونے سے بچانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کسی بھی رکن کو قانون سے بالا تر نہیں کرتا لیکن گرفتاریوں کے نام پر غیر قانونی چھاپے اور نامعلوم افراد کی جانب سے اغوا کا سلسلہ جمہوریت پر براہ راست حملہ ہے۔ یہ تنازعہ اس وقت شدت اختیار کرگیا ہے جب صوبے میں نئے کے پی پولیس ایکٹ کے حوالے سے بھی بحث جاری ہے، جس کے تحت پولیس چیف کے انتظامی اور مالیاتی فیصلے صوبائی حکومت کی منظوری سے مشروط کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اور صوبائی کابینہ پہلے ہی یہ مؤقف اپنا چکے ہیں کہ پولیس اور بیوروکریسی کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔ سیاسی محاذ پر بڑھتی ہوئی اس کشیدگی کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ پولیس انتظامیہ اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے مانگی گئی رپورٹ اور تفصیلات فراہم کرنے کے حوالے سے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔