World
خلیج کی جنگ، امریکہ اسرائیل کے اہداف اور علاقائی صورتحال
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ اپنے کسی بھی بنیادی ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے نتیجے میں پورے خطے میں معاشی اور سکیورٹی بحران پیدا ہو چکا ہے۔ اس تنازعے نے خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے اور امریکہ کی عسکری برتری کا خیمہ بھی متزلزل ہو گیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے رواں سال ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ اپنے کسی بھی متوقع اور اعلانیہ ہدف کو حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ دونوں ممالک کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس عسکری کارروائی کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایران کا پرامن جوہری پروگرام بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے حفاظتی دائرہ کار میں جاری تھا اور تہران نے 2015 کے جوہری معاہدے پر رضامندی بھی ظاہر کی تھی۔ جب 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کی اور تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی اپنائی، تب بھی ایران نے ہمیشہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، جو کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے واضح فتویٰ کی روشنی میں بھی ثابت تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تہران کا جوہری پروگرام دراصل ایران پر حملہ کرنے کے لیے صرف ایک بہانہ تھا جبکہ اصل مقصد مبینہ طور پر ایرانی حکومت کی تبدیلی اور گریٹر اسرائیل کے خواب کو عملی جامہ پہنانا تھا۔ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا اور تنصیبات پر چالیس دن تک بمباری کی گئی، لیکن اس کے باوجود ایران کی طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل پروگرام تباہ نہ ہو سکا اور ایرانی ریاست برقرار رہی۔ اس جنگ کے نتیجے میں خود امریکہ کے لیے سنگین مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ پہلی بار واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات میں دراڑیں پڑی ہیں جبکہ خلیجی ممالک بھی امریکہ کی جانب سے سکیورٹی فراہم کرنے کی صلاحیت پر سوالات اٹھانے لگے ہیں۔ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں تناؤ بڑھنے کی وجہ سے تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور خطے کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس مشکل صورتحال میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اجتماعی سلامتی کی بنیاد پر مشترکہ دفاعی انتظامات پر غور شروع کر دیا ہے۔ اب جبکہ نومبر میں امریکہ میں مڈ ٹرم انتخابات بھی قریب ہیں، واشنگٹن کے سامنے دو ہی راستے ہیں؛ یا تو وہ سفارتکاری کا راستہ اپنائے یا ایک اور بڑی فوجی مہم جوئی کی طرف بڑھے، تاہم پچھلے تجربات سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ چین سمیت تمام اہم عالمی طاقتوں کو اب سفارتی کوششوں میں تیزی لانی چاہیے تاکہ خلیج کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔