Technology
کینجیرو تسوڈا کا ٹک ٹاک کے خلاف اے آئی وائس کلوننگ پر مقدمہ
مشہور جاپانی اینیمی وائس ایکٹر کینجیرو تسوڈا نے اپنی آواز کے اے آئی کلون کے غیر قانونی استعمال پر ٹک ٹاک کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے جس کا فیصلہ جلد متوقع ہے۔ یہ جاپان میں کسی فنکار کی آواز کو مصنوعی ذہانت کی نقل سے بچانے کا پہلا قانونی معاملا ہے۔
جاپان کے معروف اور ہر دلعزیز اینیمی وائس ایکٹر کینجیرو تسوڈا نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کے ذریعے اپنی گہری اور دلکش آواز کی ہو بہو نقل تیار کرنے پر مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ پچپن سالہ اداکار، جو 'جوجوتسو کیسین'، 'چین سا مین' اور 'یو گی او' جیسے عالمی سطح پر مقبول اینیمی فرنچائزز میں اپنی جاندار آواز کے لیے جانے جاتے ہیں، اس مقدمے کے ذریعے جاپان میں پہلی بار کسی فنکار کی صوتی شناخت کو اے آئی کے حملوں سے بچانے کی قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کینجیرو تسوڈا کا مؤقف ہے کہ ٹک ٹاک پر ایک نامعلوم اکاؤنٹ کے ذریعے ایسی ویڈیوز شیئر کی گئیں جن میں شہری سحر انگیز کہانیوں اور سازشی نظریات پر مبنی مواد کے لیے ان کی مخصوص آواز کا ہو بہو اے آئی کلون استعمال کیا گیا۔ یہ اکاؤنٹ تیزی سے مقبول ہوا اور اس کے دو لاکھ سے زائد سبسکرائبرز بن گئے جس سے ماہانہ اچھی خاصی آمدنی حاصل کی جا رہی تھی۔ تسوڈا کے وکلاء کا کہنا ہے کہ اس جعلی اکاؤنٹ نے فنکار کی پبلسٹی رائٹس اور ان کی ذاتی شناخت کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، کیونکہ اس مواد کی اصل کشش صرف ایک مشہور اداکار کی آواز تھی۔ دوسری جانب، ٹک ٹاک نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ مواد محض ایک عام مردانہ آواز تھی جس کی تسوڈا سے ممامشت محض ایک اتفاق اور نظریاتی بحث ہے، اور پلیٹ فارم نے صرف اظہارِ رائے کی آزادی کے تحت صارفین کو مواد شیئر کرنے کا فورم فراہم کیا۔ اس مقدمے کے پیش نظر جاپان کے وائس ایکٹرز یونین سمیت دنیا بھر کے فنکاروں میں اے آئی کے خلاف سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایکٹر کی آواز سالوں کی سخت محنت اور ٹریننگ کا نتیجہ ہوتی ہے اور اس طرح کی چوری انڈسٹری کو تباہ کر سکتی ہے۔ اگرچہ جاپان میں آواز کی ملکیت سے متعلق کوئی واضع قانون موجود نہیں ہے، تاہم وزارتِ انصاف نے حال ہی میں اس ضمن میں کچھ رہنما اصول جاری کیے ہیں۔ اس مقدمے کا فیصلہ نہ صرف جاپان بلکہ پوری دنیا میں اے آئی کے دور میں کاپی رائٹ اور فنکاروں کے حقوق کے حوالے سے ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوگا۔