Pakistan
بنوں میں دہشت گردوں کا حملہ، 13 افراد یرغمال
بنوں کے علاقہ ہاتھی خیل میں کشیدہ صورتحال کے دوران دہشت گردوں مبینہ طور پر تیرہ افراد کو یرغمال بنا لیا ہے۔ واقعہ کی تصدیق مقامی ذرائع نے کی ہے جبکہ پولیس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
بنوں کے علاقے ہاتھی خیل میں مقامی امن کمیٹی، پولیس اور عسکریت پسندوں کے درمیان جاری کشیدہ صورتحال کے دوران جمعہ کے روز دہشت گردوں نے مبینہ طور پر تیرہ افراد کو یرغمال بنا لیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ تمام افراد اپنے اہل خانہ اور سامان کے ساتھ گاڑیوں پر سوار ہو کر علاقے سے کسی محفوظ مقام کی طرف منتقل ہو رہے تھے کہ راستے میں انہیں روک لیا گیا۔ یرغمال بنائے جانے والے افراد میں چار سگے بھائی رحمان اللہ، فرمان اللہ، لائق اور صادق کے علاوہ میر علی، محمد رازق، عظیم خان اور تین دیگر بھائی جن میں زمین، حامد اللہ اور راشد اللہ شامل ہیں، کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ تین افراد کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس حکام کی طرف سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم پولیس کے ذرائع نے اس افسوسناک واقعے کی تصدیق کی ہے۔ اس دوران سوشل میڈیا پر ایک تصویر بھی گردش کر رہی ہے جس میں مبینہ طور پر یرغمالیوں کو دکھایا گیا ہے اور اس تصویر میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا ایک مقامی کمانڈر ناصر عرف گیدڑ بھی مبینہ طور پر موجود ہے۔ تاہم اس تصویر اور اس میں موجود افراد کی شناخت کی غیر جانبدار ذرائع سے تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد مکینوں کو علاقہ چھوڑنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں اور نقل مکانی کرنے والوں پر سخت پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ جن خاندانوں نے شرائط کی تعمیل نہیں کی، ان کے مکانات مبینہ طور پر مسمار کر دیے گئے ہیں، اگرچہ ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق باقی ہے۔ ہاتھی خیل اور اس سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں سیکیورٹی کی ابتر صورتحال کے باعث مقامی رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور متعدد خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔