World
ٹرمپ کا دعویٰ: ایران کے ساتھ آئندہ ہفتے مذاکرات کا امکان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے ہفتے دوبارہ شروع ہوں گے۔ تہران کی جانب سے کسی بھی نئی بات چیت کے منصوبے کی تردید کے باوجود ٹرمپ کا یہ بیان عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدہ صورتحال کے باوجود آئندہ ہفتے کے دوران دوطرفہ مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔ ٹرمپ نے ایک انٹرویو کے دوران تہران کی حالیہ سفارتی حکمت عملی پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ایرانی حکام نے اس معاملے میں اپنا پتہ بہت زیادہ کھول دیا ہے یا دوسرے لفظوں میں حد سے زیادہ تیزی دکھائی ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان مختلف امور پر تناؤ میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب تہران کی طرف سے فوری طور پر اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ فی الحال امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا کوئی باضابطہ منصوبہ زیر غور ہے۔ ایرانی حکام کا موقف رہا ہے کہ جب تک واشنگٹن کی جانب سے منصفانہ اور زمینی حقائق کے مطابق رویہ اختیار نہیں کیا جاتا، تب تک کسی نئی بات چیت کا آغاز ممکن نہیں۔ تہران کے اس ردعمل نے بین الاقوامی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ آیا دونوں روایتی حریف ممالک کسی خفیہ یا پس پردہ رابطے میں ہیں یا نہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مہینوں میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب واشنگٹن نے تہران کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک اہم تجویز کو مسترد کر دیا۔ اس کے باوجود صدر ٹرمپ کا پرامید رہنا کہ بات چیت کا سلسلہ دوبارہ جڑ سکتا ہے، عالمی سیاست میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ دونوں فریقین عوامی سطح پر سخت بیانات کا تبادلہ کر رہے ہیں، تاہم پس پشت سفارتی کوششیں یا دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اب بھی جاری ہو سکتی ہے تاکہ فریقین کو دوبارہ میز پر لایا جا سکے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا امریکی صدر کا یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے یا تہران کے انکار کے بعد یہ سفارتی ڈیڈ لاک برقرار رہتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی اور خطے میں امن کے قیام کے لیے امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری یا بگاڑ دونوں ہی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ عالمی طاقتیں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے بحران کو ٹالا جا سکے اور خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔