LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی لبنان میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے اور ميفادون کا واقعہ

News Image
جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جنوبی لبنان کے علاقے ميفادون میں اسرائیلی اپاچی ہیلی کاپٹر نے ایک تجارتی مرکز کو نشانہ بنایا۔ حالیہ حملوں سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور امن معاہدے کے نفاذ پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی تمام بین الاقوامی کوششوں اور جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود زمینی حقائق انتہائی تشویشناک بنے ہوئے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، جنوبی لبنان میں جنگ بندی کے معاہدے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اسرائیلی فورسز کی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایک اسرائیلی اپاچی ہیلی کاپٹر نے جنوبی لبنان کے علاقے ميفادون کے قریب ایک تجارتی مرکز کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور مالی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں جانب سے امن کے قیام اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی سطح پر مسلسل رابطے جاری تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور لوگ اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود عام شہریوں اور تجارتی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس طرح کے حملے پہلے سے نازک سیز فائر کے معاہدے کو مکمل طور پر سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں اور اس سے خطے میں ایک بار پھر بڑی جنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ لبنانی حکام اور علاقائی رہنماؤں نے اس اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت کی ہے اور بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیاں خطے کے استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ دوسری جانب، اس فضائی حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے جبکہ علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے اور مقامی عوام میں شدید عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے۔