LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کی فوجی کارروائی اور پابندیوں پر کیوبا کا شدید ردعمل

News Image
کیوبا کے نائب وزیر خارجہ نے امریکہ کی ممکنہ فوجی کارروائی کے امکان کو انتہائی ہولناک جرم قرار دیا ہے۔ انہوں نے امریکی پابندیوں کو نسل کشی کے مترادف بھی قرار دیا ہے۔
کیوبا کے نائب وزیر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے ملک کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے امکان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک انتہائی ہولناک جرم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات خطے کے امن اور استحکام کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ کیوبا کی حکومت نے اس معاملے پر اپنے مؤقف کو دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لے۔ اس بیان میں امریکی اقتصادی اور سیاسی پابندیوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ کیوبا کے اعلیٰ سفارت کار کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے عائد کردہ یہ ظالمانہ پابندیاں محض دباؤ بڑھانے کا ہتھکنڈا نہیں ہیں، بلکہ یہ کیوبا کے عوام کے خلاف نسل کشی کے مترادف ہیں۔ ان پابندیوں کی وجہ سے کیوبا کے عام شہریوں کو روزمرہ کی زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جن میں طبی سامان، خوراک اور توانائی کی فراہمی میں رکاوٹیں سرفہرست ہیں۔ کیوبا اور امریکہ کے درمیان کشیدہ تعلقات میں ایک بار پھر تلخی بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے جبکہ کیوبا کی قیادت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ملکی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس تازہ بیان بازی سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی محاذ آرائی میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔ کیوبا کی حکومت عالمی سطح پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان یکطرفہ امریکی اقدامات کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے اور بین الاقوامی فورمز پر انصاف کا مطالبہ کر رہی ہے۔