World
سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچک کا استعفیٰ اور سیاسی بحران
سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچک نے ملک میں جاری طلبہ کی زیر قیادت طویل احتجاج اور سیاسی بحران کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ تاہم، سیاسی حلقوں کے مطابق وہ آنے والے قبل از وقت انتخابات میں ایک بار پھر حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
بلغراد: سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچک نے ملک بھر میں جاری شدید طویل احتجاجی مظاہروں اور بڑھتے ہوئے سیاسی بحران کے تناظر میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کے اس اچانک فیصلے سے ملک کی سیاست میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے، جہاں گزشتہ کئی مہینوں سے حکومت مخالف تحریک عروج پر تھی۔ ملک کے دارالحکومت اور دیگر بڑے شہروں میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے ان مظاہروں نے حکومت پر شدید دباؤ ڈالا ہوا تھا، جس کے بعد اب یہ اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، صدر الیگزینڈر ووچک کے خلاف ہونے والے ان مظاہروں میں بنیادی طور پر حکومتی پالیسیوں، بدعنوانی اور معاشی صورتحال کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ طلبہ تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں نے ملک میں فوری اصلاحات اور تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا، جس کے پیش نظر ملک کا سیاسی ماحول کافی عرصے سے کشیدہ چلا آ رہا تھا۔ صدر ووچک کے استعفیٰ کو مبصرین اس احتجاجی تحریک کی ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں، جس نے حکمران جماعت کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا۔
تاہم، استعفیٰ دینے کے باوجود سیاسی میدان میں الیگزینڈر ووچک کا اثر و رسوخ ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ اطلاعات کے مطابق وہ ملک میں منعقد ہونے والے آئندہ قبل از وقت (اسنیپ) انتخابات میں حصہ لینے کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ووچک اس استعفیٰ کو ایک سیاسی حکمت عملی کے طور پر استعمال کر رہے ہیں تاکہ عوامی غصے کو کم کیا جا سکے اور انتخابی میدان میں ایک بار پھر اپنی طاقت کا لوہا منوایا جا سکے۔
ملک میں اب قبل از وقت انتخابات کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں، جن کے حوالے سے عوام اور سیاسی جماعتوں میں شدید جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ آنے والے دن سربیا کی سیاست کے لیے انتہائی اہم ہوں گے، کیونکہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا عوام ووچک کی جماعت کو ایک بار پھر اقتدار سونپتے ہیں یا پھر طویل احتجاج کے بعد ملک میں ایک مکمل سیاسی تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ بین الاقوامی برادری بھی سربیا کی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔