Politics
خیبر پختونخوا اسمبلی اسپیکر بابر سلیم سواتی کا محسن نقوی کو جواب
خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے اراکینِ اسمبلی کے پارلیمانی استحقاق اور گرفتاری کی اجازت کے معاملے پر وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیانات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ارکان کی گرفتاری کی منظوری کا مقصد صرف اور صرف قانون ساز اداروں کی خودمختاری کا تحفظ کرنا ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ساتھ پارلیمانی استحقاق اور اراکینِ اسمبلی کی گرفتاری کے حوالے سے جاری تنازعہ پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اسپیکر کا کہنا ہے کہ اراکینِ اسمبلی کی گرفتاری کی اجازت سے متعلق قوانین کا بنیادی مقصد کسی کو قانون سے بالاتر رکھنا نہیں بلکہ صرف اور صرف قانون ساز اداروں کی آزادی اور خودمختاری کا مکمل تحفظ کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں عوام کی حقیقی نمائندہ ہوتی ہیں اور ان کے وقار کو مجروح کرنے سے جمہوری نظام کمزور ہوتا ہے۔
محسن نقوی کے حالیہ بیانات کے جواب میں اسپیکر بابر سلیم سواتی نے وفاقی وزیر داخلہ کو پرزور انداز میں مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے خیالات اور مؤقف پر سنجیدگی سے نظر ثانی کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی کشیدگی کے اس دور میں اداروں کے درمیان محاذ آرائی سے گریز کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسپیکر نے واضح کیا کہ قانون اور آئین کے تحت ہر ایک کو اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنا چاہیے اور قانون ساز اداروں کے حقوق پر قدغن لگانے کی کسی بھی کوشش کو آئینی اور جمہوری اصولوں کے منافی سمجھا جائے گا۔
اس کے علاوہ بابر سلیم سواتی نے اپنے ایک بیان میں یہ بھی واضح کیا کہ قانون بنانے والے ادارے ہمیشہ آئین کے تابع رہتے ہیں اور کوئی بھی رکنِ اسمبلی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کا دفاع کیا کہ اراکین کے استحقاق کا تحفظ اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ وہ بغیر کسی سیاسی دباؤ، خوف یا جبر کے اپنے فرائض منصبی انجام دے سکیں۔ سیاسی حلقوں میں اس بحث کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے وفاق اور صوبہ خیبر پختونخوا کے درمیان سیاسی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔