LIVE
Loading Breaking News...

سہیل آفریدی کی حکومت اور پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ پر مروت کا بیان

News Image
مروت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تحریک انصاف کی طرف سے اسلام آباد کی جانب متوقع مارچ سے بھی سہیل آفریدی کی حکومت کو کوئی تحفظ نہیں مل سکتا۔ موجودہ سیاسی صورتحال اور حکومتی کارکردگی کے پیش نظر اس حکومت کا برقرار رہنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے حلقوں اور ملکی سیاسی منظر نامے میں حالیہ بیانات نے ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے۔ ایک اہم سیاسی بیان میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف کوئی احتجاجی مارچ یا دھرنا بھی منعقد کیا جائے، تب بھی سہیل آفریدی کی حکومت کے بچنے کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ سیاسی ماہرین اور مبصرین کے مطابق، موجودہ سیاسی و انتظامی چیلنجز اس نوعیت کے ہیں کہ کوئی بھی احتجاجی دھرنا حکومت کی بقاء کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ حالیہ دنوں میں ملک کے اندر سیاسی تناؤ میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک طرف اپوزیشن جماعتیں اور حکومتی مخالفین اپنے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر نکلنے کی تیاریاں کر رہے ہیں، تو دوسری طرف حکومتی صفوں میں بھی اندرونی اختلافات اور بے یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ ایسے وقت میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ شاید ایک بڑا اسلام آباد مارچ حکومت پر دباؤ بڑھا کر اسے وقتی ریلیف دے سکتا ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومتی استحکام کا دارومدار صرف احتجاجی مظاہروں پر نہیں بلکہ معاشی اشاریوں، گورننس اور اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پر ہوتا ہے۔ موجودہ حالات میں سہیل آفریدی کی انتظامیہ کو جن گہرے مسائل کا سامنا ہے، ان میں عوامی بے چینی اور انتظامی کمزوریاں سر فہرست ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی بڑے دھرنے یا مارچ کے انعقاد کے باوجود حکومت کے طویل عرصے تک قائم رہنے کے امکانات کو معدوم قرار دیا جا رہا ہے۔ آئندہ آنے والے دنوں میں سیاسی سرگرمیوں میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے کیونکہ تمام اہم فریقین اپنی اپنی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ عوامی سطح پر بھی اس صورتحال کو بڑی گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ سیاسی درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے۔ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ یہ سیاسی کشمکش کس سمت جاتی ہے اور حکومت اس طوفان کا مقابلہ کرنے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے۔