LIVE
Loading Breaking News...

مغربی ایشیا میں امریکی کردار مسترد، سکیورٹی کا فیصلہ تہران کرے گا

News Image
ایک اعلیٰ ایرانی فوجی کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کا مغربی ایشیا میں کوئی تعمیری کردار باقی نہیں رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے کی سکیورٹی کا مستقبل اب تہران اور خطے کے ممالک خود طے کریں گے۔
تہران: ایک اعلیٰ ایرانی فوجی کمانڈر نے اپنے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ خطے میں امریکہ کا اب کوئی بھی مثبت یا موثر کردار نہیں بچا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیا کے امور اور اس کی سکیورٹی کا مستقبل اب صرف تہران اور خطے کے متعلقہ ممالک کی پالیسیوں کے تحت طے کیا جائے گا۔ ایرانی عسکری قیادت کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اور تبدیل ہوتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیش نظر طاقت کے توازن میں اہم تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ بیرونی طاقتوں بالخصوص امریکہ کی خطے میں موجودگی ہمیشہ سے عدم استحکام اور تنازعات کا باعث بنی ہے، اس لیے خطے کے امن و امان کے لیے یہ ضروری ہے کہ مقامی ممالک خود آگے آئیں۔ تہران کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر خطے میں سکیورٹی کے نئے اور خودمختار ڈھانچے کی تشکیل کے لیے پرعزم ہیں، جس میں کسی بھی مغربی یا بیرونی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ مبصرین کے مطابق، یہ بیان خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور امریکی پالیسیوں کو براہ راست چیلنج کرنے کی ایک اور کڑی ہے، جس سے مستقبل میں مغربی ایشیا کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ خطے کے دیگر ممالک بھی اس بدلتی ہوئی صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کے سائے پورے خطے کے امن پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔