LIVE
Loading Breaking News...

شاہ محمد چہارم: سعودی عرب پر حملہ مراکش پر حملہ ہے

News Image
مراکش کے شاہ محمد چہارم نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری پر کسی بھی قسم کا حملہ مراکش پر حملہ مانا جائے گا۔ انہوں نے دونوں برادر ممالک کے درمیان گہرے تزویراتی تعلقات اور باہمی اتحاد کا اعادہ کیا۔
مراکش کے فرمانشاہ شاہ محمد چہارم نے ایک اہم اور دوٹوک بیان میں کہا ہے کہ مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام پر کسی بھی طرح کا حملہ براہ راست مراکش پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ بیان دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین گہرے تاریخی، سیاسی اور دفاعی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور خطے میں پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ شاہ محمد چہارم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مراکش ہر مشکل گھڑی میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور دونوں ریاستیں اپنے دفاع اور باہمی تعاون کے لیے پرعزم ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ خلیجی خطے کی سلامتی پوری مسلم دنیا اور بالخصوص مراکش کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ مراکش کی قیادت نے ماضی میں بھی ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ اپنی غیر مشروط حمایت کا اظہار کیا ہے اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سفارتی سطح پر قریبی تعاون جاری ہے جس کا مقصد کسی بھی بیرونی خطرے سے مشترکہ طور پر نمٹنا اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنا ہے۔ بین الاقوامی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق شاہ محمد چہارم کا یہ بیان مشرق وسطیٰ کی موجودہ ارضیاتی سیاست میں ایک مضبوط پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عرب دنیا کے اہم ترین ممالک کسی بھی جارحیت کے خلاف متحد ہیں اور ایک دوسرے کی سلامتی کو اپنی قومی سلامتی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس اعلان کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید گرمجوشی دیکھنے میں آئی ہے اور عوامی و سفارتی سطح پر اس اقدام کو بے حد سراہا گیا ہے۔