Business
امریکی تجویز: جاپانی ین کی خریداری اور مالیاتی منڈیوں پر اثرات
امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاپانی ین کی خریداری کے لیے ایک نئی تجویز سامنے آئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی مالیاتی منڈیوں میں جاپانی کرنسی کو سہارا دینا ہے۔
امریکہ کے مالیاتی حلقوں میں اس وقت ایک اہم تجویز زیر بحث ہے جس کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ پانچ سے دس ارب ڈالر کے مساوی جاپانی ین خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ تجویز بیسنٹ کی تیار کردہ 'ٹو ڈو' لسٹ کا حصہ ہے، جس کا مقصد عالمی منڈی میں جاپانی کرنسی کے استحکام کو یقینی بنانا اور کرنسی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنا ہے۔ عالمی مالیاتی تجزیہ کار اس پیشرفت کو نہایت اہم قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے جاپانی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، جاپان کی طرف سے بھی ٹوکیو اور واشنگٹن کے درمیان مشترکہ اقدامات اٹھائے جانے کے حوالے سے بیانات سامنے آئے ہیں، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون میں مزید اضافے کا اشارہ ملتا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی ٹریژری کی جانب سے جاپانی ین کی حمایت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بعد اس نئی تجویز نے سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس پالیسی سے نہ صرف زر مبادلہ کی مارکیٹ میں استحکام آئے گا بلکہ دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات بھی مزید مستحکم ہوں گے۔ بینک آف جاپان کے آئندہ پالیسی فیصلوں سے پہلے اس قسم کی مداخلت اور تجاویز کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے، اور کاروباری حلقے اس کے دور رس نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔