LIVE
Loading Breaking News...

سوئٹزرلینڈ میں غیر جانبداری سخت کرنے کی تجویز مسترد

News Image
سوئٹزرلینڈ کے ووٹرز نے ایک متنازعہ ریفرنڈم میں ملک کی روایتی غیر جانبداری کی پالیسی کو مزید سخت بنانے کی تجویز کو واضح اکثریت سے مسترد کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد سوئس حکومت کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں میں فوری طور پر کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔
سوئٹزرلینڈ کے شہریوں نے ایک اہم قومی ریفرنڈم میں ملک کی روایتی غیر جانبداری کی پالیسی کو مزید سخت کرنے کی تجویز کو بھاری اکثریت کے ساتھ مسترد کر دیا ہے۔ اس تجویز کا مقصد ملک کے بین الاقوامی تعلقات اور دفاعی امور میں غیر جانبداری کے اصولوں کو مزید سخت بنانا تھا تاکہ کسی بھی قسم کے بیرونی فوجی اتحادوں یا تنازعات میں شمولیت کے امکانات کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔ تاہم، سوئس ووٹرز نے اس اقدام کے حق میں ووٹ دینے سے گریز کیا اور موجودہ پالیسی پر ہی اعتماد کا اظہار کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس ریفرنڈم کے نتائج اس بات کا عکاس ہیں کہ سوئس عوام موجودہ عالمی حالات میں اپنے روایتی اور متوازن سفارتی مؤقف کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ غیر جانبداری کی سخت پالیسی کے حامیوں کا مؤقف تھا کہ اس سے ملک کی طویل المدتی امن کی روایت کو مزید تقویت ملے گی، لیکن ناقدین اور حکومتی شخصیات کا خیال تھا کہ اس قسم کی سخت پابندیوں سے سوئٹزرلینڈ کے دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں، بالخصوص یورپی یونین اور مغربی ممالک کے ساتھ۔ سوئس حکومت اور پارلیمنٹ نے بھی اس تجویز کی مخالفت کی تھی، اور ان کا کہنا تھا کہ موجودہ غیر جانبداری کا قانون پہلے ہی کافی جامع ہے اور ملک کی سلامتی کو یقینی بناتا ہے۔ حکومت نے ووٹرز پر زور دیا تھا کہ وہ اس طرح کی سخت ترامیم سے گریز کریں جو بین الاقوامی سطح پر سوئٹزرلینڈ کے کردار کو محدود کر سکتی ہیں۔ اس ناکامی کے بعد، سوئٹزرلینڈ کی روایتی خارجہ پالیسی بدستور برقرار رہے گی اور ملک اپنے دیرینہ اصولوں کے تحت بین الاقوامی امور میں حصہ لیتا رہے گا۔