LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جلد کم ہوں گی: ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

News Image
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ انہوں نے معاشی پالیسیوں اور توانائی کی پیداوار بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر معاشی امور پر کھل کر بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں جلد ہی نیچے آئیں گی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں توانائی کے وسائل اور مہنگائی کی صورتحال پر گہرے معاشی مباحثے جاری ہیں۔ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ان کی آئندہ آنے والی معاشی پالیسیاں اور گھریلو سطح پر تیل و گیس کی پیداوار میں اضافہ عالمی مارکیٹ پر براہ راست اثر ڈالے گا، جس کے نتیجے میں صارفین کو سستا ایندھن فراہم کیا جا سکے گا۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے توانائی کے روایتی ذرائع کو فروغ دینے اور ڈرلنگ کے عمل کو تیز کرنے کے اعلانات کا مقصد امریکہ کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنانا اور عالمی سطح پر قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے۔ اگرچہ اس پالیسی پر ماحولیاتی حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے، تاہم کاروباری حلقے اسے افراطِ زر کے خلاف ایک اہم قدم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ٹرمپ کا اصرار ہے کہ سستی توانائی ملنے سے نہ صرف صنعتی پیداوار کی لاگت کم ہوگی بلکہ عام آدمی کو بھی براہ راست ریلیف ملے گا۔ دوسری جانب، اوپیک (OPEC) اور دیگر تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کی طرف سے اس بیان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ بین الاقوامی منڈی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں کا انحصار محض ایک ملک کی پالیسیوں پر نہیں بلکہ عالمگیر طلب و رسد، جغرافیائی سیاسی تنازعات اور سپلائی چین کی صورتحال پر بھی ہوتا ہے۔ اس کے باوجود، ڈونلڈ ٹرمپ کے اس پرامید بیان نے سرمایہ کاروں اور معاشی تبصرہ نگاروں کی توجہ ضرور مبذول کروا لی ہے، اور آنے والے ہفتوں میں اس کے مارکیٹ پر اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔