Pakistan
پنجاب حکومت کو پی ٹی آئی مارچ سیکیورٹی پر اربوں کا خرچ
پاکستان تحریک انصاف کے طویل مارچ کے دوران کیے جانے والے سیکیورٹی انتظامات کی وجہ سے پنجاب حکومت کو اربوں روپے کے مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ صوبائی انتظامیہ اور متعلقہ محکمے سیکیورٹی کے اس بھاری بھرکم بجٹ کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے طویل مارچ کے موقع پر صوبہ بھر میں کیے جانے والے سیکیورٹی کے سخت انتظامات نے پنجاب حکومت کے مالیاتی ذخائر پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس پورے عمل کے دوران پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعیناتی، نقل و حرکت اور خوراک و رہائش کے انتظامات پر اربوں روپے کے اخراجات آئے ہیں۔ صوبائی حکومت کو اس غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فنڈز مختص کرنا پڑے ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔ سیاسی دباؤ اور امن و امان کی اس فضا میں انتظامیہ کے لیے وسائل کی تقسیم ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طویل مارچ کی سیکیورٹی کے لیے بھاری نفری کو مختلف شہروں میں تعینات کیا گیا تھا، جس کے باعث اوور ٹائم، ایندھن، گاڑیوں کے استعمال اور روزمرہ کے انتظامی اخراجات میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سیکورٹی فورسز کی مسلسل ڈیوٹی اور حفاظتی رکاوٹوں کی تیاری پر بھی بھاری رقوم صرف کی گئیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب اور وزارت خزانہ کے درمیان ان اخراجات کی باقاعدہ رپورٹ تیار کی جا رہی ہے تاکہ اس بات کا تخمینہ لگایا جا سکے کہ صوبائی خزانے کو مجموعی طور پر کتنا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
دوسری جانب، سیاسی تجزیہ کاروں اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے بھی ان اخراجات پر مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف حکومت کا موقف ہے کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور سرکاری املاک کو نقصان سے بچانا ان کی اولین ترجیح تھی، جس کے لیے وسائل کا استعمال ناگزیر تھا۔ دوسری طرف مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار صوبائی بجٹ پر اس قسم کے غیر معمولی اخراجات کا بوجھ پڑنے سے ترقیاتی اور فلاحی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔ حکومت کے سامنے اب یہ سوال بھی ہے کہ ان بھاری بھرکم اخراجات کو آئندہ کے مالیاتی گوشواروں میں کیسے ایڈجسٹ کیا جائے گا۔