LIVE
Loading Breaking News...

خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، ایران کا آبنائے ہرمز پر سخت مؤقف

News Image
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اس وقت تیزی دیکھی گئی جب ایران نے واضح کیا کہ وہ آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے مطالبات میں کوئی لچک پیدا نہیں کرے گا۔ اس جرات مندانہ مؤقف کے بعد عالمی توانائی کی منڈیوں میں اضطراب پایا جاتا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ ایران کا وہ تازہ ترین بیان ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے مطالبات میں ہرگز نرمی یا لچک پیدا نہیں کرے گا۔ اس پیش رفت نے دنیا بھر کے توانائی کے ماہرین اور سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل کی سپلائی کے لیے ایک انتہائی اہم ترین سمندری گزرگاہ ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس راستے سے متعلق کسی بھی قسم کی کشیدگی یا سیاسی تناؤ براہ راست عالمی مارکیٹ میں تیل کی رس رسانی کو متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں فوری طور پر اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ تہران کی جانب سے یہ واضح کیے جانے کے بعد کہ وہ اپنے طے شدہ مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا، تجارتی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور خام تیل کے سودے کرنے والے تاجر مستقبل کے بارے میں محتاط حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ توانائی کی بین الاقوامی ایجنسیوں اور مختلف مالیاتی اداروں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید کشیدہ ہوتی ہے تو آنے والے دنوں میں ایندھن اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے۔ حکومتوں اور کارپوریٹ اداروں کی جانب سے اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ ممکنہ توانائی کے بحران سے بچنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جا سکیں۔ دوسری جانب، اس تنازع کے معاشی اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں کیونکہ مہنگائی کے دباؤ کا شکار عوام کے لیے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مزید مشکلات کا باعث بن سکتی ہیں۔