LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی: ایران پیشکش مسترد، تیل مہنگا اور اسٹاک فیوچرز کمزور

News Image
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ اس صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں میں بے یقینی پھیلی ہے جس کے نتیجے میں اسٹاک فیوچرز نیچے آگئے ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں جمعرات کے روز ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا جہاں ایران کی جانب سے سامنے آنے والی ایک حالیہ پیشکش کو مسترد کیے جانے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ جبکہ اہم اسٹاک فیوچرز میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات کی وجہ سے توانائی کی منڈیوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ اس سے قبل تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی کی توقع کی جا رہی تھی تاہم تازہ ترین سیاسی پیش رفت نے صورتحال کو یکسر بدل دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں سکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی تنصیبات پر حملوں کے دعووں نے تیل کی رس رسد کو لے کر خدشات کو مزید ہوا دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاجر اور سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور رسک فیکٹر کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے پورٹ فولیو میں ردوبدل کر رہے ہیں۔ دوسری جانب وال اسٹریٹ پر بھی اس کشیدگی کے اثرات صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ ڈاؤ جونز کے فیوچرز ایران ڈیل مسترد ہونے کی خبر کے بعد منفی زون میں کھلے، جبکہ امریکی کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) اور نان فارم پے رول (این ایف پی) کے اہم اعداد و شمار آنے سے پہلے مارکیٹ میں پہلے ہی سے دباؤ موجود تھا۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی معیشت کی سمت کا انحصار بڑی حد تک مشرق وسطیٰ کی عسکری اور سفارتی صورتحال پر ہوگا کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست عالمی افراط زر اور شرح سود کی پالیسیوں کو متاثر کرتا ہے۔ تمام سرمایہ کار اس وقت انتہائی چوکنا ہیں اور کسی بھی بڑی پالیسی یا عسکری ردعمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مارکیٹ کے اگلے قدم کا اندازہ لگایا جا سکے۔