LIVE
Loading Breaking News...

ایم ایس آئی لیپ ٹاپ اسکرین اسکینڈل: تکنیکی حقیقت کیا ہے؟

News Image
ایک گیمنگ لیپ ٹاپ کے صارف نے دعویٰ کیا ہے کہ کمپنی کے منظور شدہ سروس سینٹر نے مرمت کے دوران اس کی 144 ہرٹز اسکرین کو 60 ہرٹز اسکرین سے بدل دیا۔ تاہم، تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہارڈ ویئر کی نوعیت کے پیش نظر ایسا دعویٰ درست نہیں ہو سکتا۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں اکثر ایسے انوکھے اور عجیب و غریب دعوے سامنے آتے ہیں جو صارفین اور ماہرین دونوں کو حیران کر دیتے ہیں۔ حال ہی میں ایک معروف گیمنگ لیپ ٹاپ بنانے والی کمپنی ایم ایس آئی (MSI) کے صارف نے ایک ایسا ہی دعویٰ کیا ہے جس نے سوشل میڈیا پر بحث چھوٹی ہے۔ صارف کا کہنا ہے کہ جب اس نے اپنا قیمتی گیمنگ لیپ ٹاپ کمپنی کے ایک مجاز سروس سینٹر میں مرمت کے لیے جمع کروایا، تو واپسی پر اس کے ساتھ دھوکہ کیا گیا اور اس کی تیز رفتار 144 ہرٹز ریفریش ریٹ والی ڈسپلے سکرین کو ایک سست رفتار 60 ہرٹز والی سکرین سے تبدیل کر دیا گیا۔ اس الزام کے بعد صارفین کی جانب سے سروس سینٹرز کی دیانت داری پر سوالات اٹھائے جانے لگے۔ تاہم، جب اس واقعے کی تکنیکی تفصیلات کا جائزہ لیا گیا تو ماہرین نے اس دعوے کو سراسر ناممکن اور تکنیکی طور پر ناقابلِ عمل قرار دیا۔ کمپیوٹر ہارڈ ویئر کے ماہرین کے مطابق، جدید گیمنگ لیپ ٹاپس میں ڈسپلے پینلز، ان کے کیبل کنکشنز، مدر بورڈ کی مطابقت اور گرافکس کارڈ کی سیٹنگز انتہائی نفاست سے جڑی ہوتی ہیں۔ ایک 144 ہرٹز پینل کی جگہ عام طور پر 60 ہرٹز کا پینل فزیکل طور پر فٹ بیٹھنا بھی مشکل ہوتا ہے کیونکہ ان کے پن کنیکٹرز اور بائیو س (BIOS) فرم ویئر کی ضروریات بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ اگر کوئی زبردستی ایسا کرنے کی کوشش بھی کرے تو لیپ ٹاپ کا ڈسپلے یا تو بالکل کام نہیں کرے گا یا پھر سنگین تکنیکی خرابیوں کا شکار ہو جائے گا۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اکثر صارفین غلطی سے ون ڈسپلے سیٹنگز میں جا کر ریفریش ریٹ کو کم حالت میں دیکھ لیتے ہیں یا پھر گرافکس ڈرائیورز کرپٹ ہو جانے کی وجہ سے ہائی ریفریش ریٹ عارضی طور پر چھپ جاتا ہے، جسے وہ ہارڈ ویئر کی تبدیلی سمجھ بیٹھتے ہیں۔ اس واقعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جدید ڈیجیٹل آلات کے استعمال کے دوران صارفین کو تکنیکی معلومات کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے وہ اکثر غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایم ایس آئی کے اس معاملے میں بھی بظاہر یہی لگتا ہے کہ صارف نے تکنیکی پیچیدگیوں کو نہ سمجھتے ہوئے سروس سینٹر پر غلط الزام عائد کر دیا ہے۔