World
جنوبی افریقہ میں مہاجرین کو نئے حملوں کا خطرہ
جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں عارضی کیمپ سے نکالے جانے والے مہاجرین نئے حملوں کے خدشات کا شکار ہیں۔ تیس ستمبر کی ڈیڈ لائن قریب آنے پر پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس واپسی کے لیے کوئی محفوظ مقام نہیں ہے۔
جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں مقیم مہاجرین شدید تشویش اور خوف کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں ایک عارضی کیمپ سے زبردستی نکالے جانے کے بعد اب نئے حملوں کا شدید خطرہ لاحق ہے۔ تیس ستمبر کی ڈیڈ لائن تیزی سے قریب آ رہی ہے، جس کی وجہ سے پناہ گزینوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے دی گئی اس آخری تاریخ کے بعد مہاجرین کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس واپس جانے یا رہنے کے لیے کوئی بھی محفوظ ٹھکانہ موجود نہیں ہے۔
یہ صورتحال اس وقت سنگین اختیار کر گئی جب بے گھر ہونے والے ان افراد کو ماضی میں بھی مقامی سطح پر پرتشدد کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ عارضی کیمپوں میں پناہ لینے والے یہ افراد اب دوبارہ بے دخلی کے بعد سڑکوں پر آنے یا مقامی آبادی کے غصے کا نشانہ بننے سے خائف ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے اس معاملے پر فوری اور منصفانہ حکمت عملی اختیار نہ کی تو ایک بڑا انسانی بحران جنم لے سکتا ہے، جس سے متاثرہ افراد کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
متاثرہ مہاجرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے آبائی ممالک کے حالات سے تنگ آ کر جنوبی افریقہ کا رخ کیا تھا لیکن یہاں بھی انہیں امن اور تحفظ میسر نہیں آ رہا۔ حکارتی حکام اور مقامی انتظامیہ کی طرف سے فی الحال پناہ گزینوں کے مستقل انخلاء یا بحالی کے لیے کوئی قابلِ عمل متبادل منصوبہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اس غیریقینی صورتحال نے مہاجرین کی ذہنی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا ہے جو ہر لمحہ نئے ممکنہ حملوں اور جانی نقصان کے خوف میں مبتلا ہیں۔