LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی افریقہ میں خواتین کے قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات اور پولیس کی کارروائی

News Image
جنوبی افریقہ میں پولیس نے جوہانسبرگ کے قریب سے ایک اور خاتون کی لاش برآمد کر لی ہے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد گیارہ تک پہنچ گئی ہے۔ حکام ملک میں بڑھتے ہوئے خواتین کے قتل کے واقعات کے پیش نظر اس دلخراش معاملے کی گہرائی سے تحقیقات کر رہے ہیں۔
جنوبی افریقہ میں حکام نے بتایا ہے کہ پولیس نے ملک کے بڑے تجارتی مرکز جوہانسبرگ کے قریب سے ایک اور خاتون کی لاش برآمد کی ہے، جس کے بعد اس سلسلے میں ملنے والی لاشوں کی مجموعی تعداد گیارہ ہو گئی ہے۔ اس افسوسناک واقعے نے پورے خطے میں خوف و ہراس پھیلادیا ہے اور عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ جنوبی افریقہ پہلے ہی دنیا بھر میں خواتین کے قتل یعنی فیمسائڈ کی بلند ترین شرح رکھنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، جہاں خواتین کے خلاف تشدد ایک بڑا اور سنگین سماجی مسئلہ بن چکا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق، حالیہ برآمد ہونے والی لاشوں کے معاملے میں تمام ممکنہ زاویوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ تمام واقعات کسی ایک ہی گروہ یا زنجیرِ جرائم کا حصہ ہیں یا اس کے پیچھے کوئی اور محرکات کارفرما ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فرانزک شواہد اکھٹے کیے جا رہے ہیں اور متاثرہ خاندانوں سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ مقتولین کی شناخت اور ان کے قاتلوں تک جلد از جلد پہنچا جا سکے۔ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے جنوبی افریقہ میں خواتین کے تحفظ کے حوالے سے حکومت پر شدید دباؤ ڈالا ہے کہ وہ مجرموں کے خلاف سخت ترین اقدامات اٹھائے۔ اس نوعیت کے لرزہ خیز جرائم نے معاشرے کی بنیادی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، اور عام شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر پالیسیاں نافذ کرے تاکہ آئندہ اس طرح کے دردناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔