LIVE
Loading Breaking News...

ایران جنگ کی تیاری، آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور تہران کا موقف

News Image
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ تہران خطے میں کسی بھی جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تنازع کے خاتمے کے لیے پیش کردہ سات روزہ روڈ میپ کو مسترد کیے جانے کے بعد یہ بیان سامنے آیا ہے۔
تہران: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جب ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ موجودہ حالات کے پیشِ نظر جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ایرانی حکام کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سکیورٹی کے امور پر شدید نوعیت کے خدشات پائے جاتے ہیں اور بین الاقوامی سفارتی کوششیں تاحال کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکیں۔ اس صورتحال کا پس منظر یہ ہے کہ واشنگٹن نے حال ہی میں اس سات روزہ روڈ میپ کو یکسر مسترد کر دیا تھا جو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جاری تنازع کے خاتمے کے لیے تجویز کیا گیا تھا۔ اس امریکی انکار کے بعد تہران کی عسکری اور سیاسی قیادت کا مؤقف مزید سخت ہو گیا ہے، اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت بالخصوص تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی حساس اور کلیدی راستہ مانا جاتا ہے۔ اس گزرگاہ پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی کے دنیا بھر کی معیشت اور توانائی کی سپلائی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر دونوں فریقین نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے، جس سے خطے کا امن شدید خطرے میں پڑ جائے گا۔ دوسری جانب، بین الاقوامی برادری اور مختلف ممالک کے رہنما دونوں فریقین سے پرسکون رہنے اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کی اپیل کر رہے ہیں۔ تاہم، تہران کی جانب سے جنگ کی تیاری کے بیانات نے خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے کر دیے ہیں اور دنیا بھر کی نگاہیں آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال پر مرکوز ہیں۔