World
پوپ فرانسیس کی کلیسا میں بچوں کے استحصال کے متاثرین سے ملاقات
رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ فرانسیس نے فرانس کے شہر لوردیس میں جنسی استحصال کے سات متاثرین کے ساتھ ایک طویل اور جذباتی ملاقات کی۔ اس موقع پر پوپ نے متاثرین سے ملاقات کے دوران گرجا گھر میں بچوں کے استحصال کے واقعات کے خلاف عملی اور سخت اقدامات اٹھانے کا உறுی عزم ظاہر کیا۔
رومن کیتھولک چرچ کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس نے فرانس کے تاریخی اور مذہبی شہر لوردیس کے دورے کے دوران کلیسا میں بچوں کے جنسی استحصال کے شکار سات متاثرین کے ساتھ ایک انتہائی اہم اور جذباتی ملاقات کی ہے۔ دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس طویل نشست میں پوپ نے متاثرین کے تحفظات کو سنا اور ان کے درد میں برابر کے شریک ہونے کا یقین دلایا۔ ویٹیکن اور چرچ کے اندر طویل عرصے سے جاری اس سنگین مسئلے پر پوپ کا یہ قدم عالمی سطح پر انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔
ملاقات کے دوران متاثرین نے اپنے ساتھ پیش آنے والے دردناک واقعات اور اس کے بعد چرچ کی انتظامیہ کی طرف سے ملنے والی سرد مہری کے بارے میں کھل کر بات کی۔ ذرائع کے مطابق یہ ملاقات انتہائی جذباتی ماحول میں ہوئی جہاں متاثرین اور پوپ فرانسیس دونوں نے اس المناک حقیقت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ پوپ نے اس بات پر زور دیا کہ کلیسا کے اندر بچوں کے استحصال کو مزید کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس قبیح فعل میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اس ملاقات کے بعد پوپ فرانسیس پر عالمی سطح پر یہ دباؤ بھی بڑھ گیا ہے کہ وہ صرف زبانی جمع خرچ سے کام لینے کے بجائے زمینی حقائق کو بدلنے کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کریں۔ کیتھولک چرچ کے اندر سالوں سے پردہ داری اور انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے متاثرین نے ویٹیکن سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ پوپ کی طرف سے دیے گئے اس عزم کو مبصرین نے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ اصل امتحان ان وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کا ہے۔