LIVE
Loading Breaking News...

آسٹریلوی پارلیمنٹ کی اے آئی تحقیقات، اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے سی ای اوز طلب

News Image
آسٹریلیا میں مصنوعی ذہانت سے متعلق جاری پارلیمانی تحقیقات میں نامور اے آئی کمپنیوں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے صدور کو طلب کر لیا گیا ہے۔ یہ تحقیقات ملک میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات اور ضوابط کے حوالے سے کی جا رہی ہیں۔
آسٹریلیا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے قائم کردہ پارلیمانی تحقیقاتی کمیشن نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے دنیا کی صف اول کی دو بڑی مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں، اوپن اے آئی (OpenAI) اور اینتھروپک (Anthropic) کے چیف ایگزیکٹو افسران کو باضابطہ طور پر طلب کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد قانون سازوں کو اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ یہ جدید ٹیکنالوجیز کس طرح معاشرے، معیشت اور سکیورٹی کو متاثر کر رہی ہیں۔ آسٹریلوی پارلیمنٹ میں یہ تحقیقات اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال محفوظ، شفاف اور انسانی فلاح کے مطابق ہو۔ حالیہ برسوں میں جෙනریٹو اے آئی کی تیز رفتار ترقی نے دنیا بھر کی حکومتوں کو اس کے قواعد و ضوابط پر غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔ آسٹریلوی حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح بین الاقوامی ٹیک کمپنیوں کے اثرات کو مقامی قوانین کے دائرے میں لایا جائے۔ اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے سربراہان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس موقع پر اپنے سسٹمز کے حفاظتی پروٹوکولز، ڈیٹا پرائیویسی کے مسائل اور مستقبل کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالیں گے۔ اس طلب نامے کو اے آئی انڈسٹری کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے اس بات کا اندازہ ہوگا کہ آئندہ دنوں میں حکومتیں عالمی سطح پر کام کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو کس قسم کے ریگولیٹری فریم ورک میں باندھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کی تحقیقات سے نہ صرف شفافیت کو فروغ ملے گا بلکہ صارفین کے حقوق کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔ آسٹریلیا میں ہونے والی ان پیش رفتوں پر عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ بہت سے دیگر ممالک بھی مصنوعی ذہانت کے حوالے سے سخت قوانین متعارف کرانے کے خواہشمند ہیں۔