LIVE
Loading Breaking News...

امریکا اور چین کا ساٹھ ارب ڈالر کا تجارتی معاہدہ

News Image
امریکا اور چین نے ساٹھ ارب ڈالر کے کم ٹیرف نظام پر اتفاق کر لیا ہے جس میں مختلف اشیا کی تجارت شامل ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک دو طرفہ تجارتی اور سرمایہ کاری کونسلیں بھی تشکیل دیں گے۔
امریکہ اور چین کے درمیان عالمی تجارت کے حوالے سے ایک انتہائی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے تحت دونوں معاشی طاقتوں نے ساٹھ ارب ڈالر کے کم ٹیرف نظام پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس معاہدے کے دائرہ کار میں مختلف قسم کی اشیا شامل ہیں جن کی تجارت اب کم شرحِ محصول کے ساتھ کی جائے گی۔ اس دو طرفہ پیش رفت کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی کشیدگی کو کم کرنا اور اقتصادی تعاون کو ایک نئی سمت دینا ہے۔ اس امر کی تصدیق مالیاتی اور اقتصادی ذرائع سے بھی کی گئی ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں مثبت رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے خصوصی کونسلیں بھی تشکیل دیں گے، جو مستقبل کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کریں گی۔ اس کے علاوہ تیس ارب ڈالر کے باہمی ٹیرف میں کٹوتی پر بھی اتفاق رائے پایا گیا ہے، جو دونوں معیشتوں کے لیے سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں چینی حکام نے امریکی قیادت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور دونوں اطراف سے اسٹریٹجک استحکام اور مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تجارتی جنگ میں وقتی ٹھہراؤ اور بات چیت کے دروازے کھلنے سے دنیا بھر کی سپلائی چین پر پڑنے والے منفی اثرات کم ہوں گے۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی سطح پر تجارتی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی توقع کی جا رہی ہے کیونکہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کا باہمی تعاون عالمی معیشت کی بحالی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔