World
امریکہ چین سربراہی اجلاس: دوطرفہ کشیدگی کم کرنے کے لیے ٹھوس نتائج کی ضرورت
امریکی صدر اور چینی صدر کے درمیان حالیہ ملاقات کے بعد دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے لیے عملی اقدامات ناگزیر قرار دیے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی و عسکری تنازعات کو سلجھانے کے لیے محض سفارتی خوش اخلاقی کافی نہیں۔
واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین تعلقات کو مستحکم کرنے اور جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کے سربراہی اجلاس کے بعد بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان عارضی جنگ بندی کو پائیدار بنانے کے لیے ٹھوس اور عملی نتائج کی اشد ضرورت ہے۔ حال ہی میں امریکی صدر اور چینی صدر کے مابین ہونے والی ملاقات میں بظاہر خوشگوار ماحول دیکھا گیا اور چائے کی دعوت کے ساتھ ساتھ رہنماؤں کے درمیان دوستانہ تبادلہ خیال بھی ہوا، تاہم اہم پالیسی معاملات پر خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق چینی صدر نے ملاقات کے دوران واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان عسکری تنازعے سے بچنے اور تعلقات کو درست سمت میں لے جانے کے لیے کچھ بنیادی شرائط اور اصولوں پر کاربند رہنا ہوگا۔ دوسری جانب امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ محض سفارتی خوش گپیوں اور رسمی عشائیوں سے اقتصادی اور تزویراتی مسائل حل نہیں ہو سکتے، بلکہ اس کے لیے دونوں ممالک کو تجارتی پابندیوں، ٹیکنالوجی کی جنگ اور سلامتی کے امور پر ٹھوس معاہدے کرنا ہوں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے دوران تناؤ کو قابو میں رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، لیکن جب تک زمین پر ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہوتے، یہ امن معاہدہ اور سفارتی گرم جوشی زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتی۔ عالمی مارکیٹ پر بھی اس صورتحال کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں اور ہفتے کے آغاز پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ کار اور کاروباری حلقے امریکہ اور چین کے تعلقات کے مستقبل کو لے کر تاحال تشویش کا شکار ہیں۔
آنے والے ہفتوں میں دونوں ممالک کے اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان مزید مذاکرات متوقع ہیں جن میں تجارتی معاہدوں اور بحیرہ جنوبی چین سمیت دیگر متنازع امور پر بات چیت کی جائے گی۔ عالمی امن اور معیشت کی بحالی کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر باہمی تعاون کی راہ اپنائیں تاکہ دنیا کو ایک اور اقتصادی بحران سے بچایا جا سکے۔