Politics
پی ٹی آئی کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی دھمکی پر ردعمل
پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کے حوالے سے چلنے والی خبروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے حکومت کو چیلنج کیا ہے۔ صوبائی سیاسی صورتحال اس وقت کشیدہ ہے جبکہ دوسری طرف گورنر خیبر پختونخوا نے قبائلی عمائدین کے کردار کو اہم قرار دیا ہے۔
اسلام آباد اور پشاور کے سیاسی حلقوں میں اس وقت خیبر پختونخوا کی صورتحال پر گرما گرم بحث جاری ہے، جہاں ایک طرف صوبے میں سیاسی تبدیلی اور گورنر راج کے نفاذ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، وہیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اس حوالے سے واضح طور پر حکمران اتحاد کو چیلنج کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صوبے میں ان کی حکومت عوامی مینڈیٹ کے ساتھ قائم ہے اور اس طرح کے غیر آئینی ہتھکنڈوں سے ان کی جماعت کو دبایا نہیں جا سکتا۔ دوسری جانب ذرائع کے مطابق وفاقی سطح پر صوبے کی انتظامی اور سیاسی صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشمکش میں مزید تیزی آ سکتی ہے کیونکہ صوبائی حکومت کے اقدامات اور وفاق کے ردعمل میں تضاد پایا جاتا ہے۔ دریں اثنا، صوبے کے گورنر نے قبائلی عمائدین کے کردار کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ علاقائی امن اور ترقی کے لیے قبائلی زعماء کی خدمات کو تسلیم کیا جانا چاہیے اور انہیں ایک بڑا کردار دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ حالات میں صوبے کے اندر کسی بھی قسم کے احتجاج یا مارچ کی فی الحال کوئی ٹھوس توجیہہ نہیں بنتی، لہذا تمام فریقین کو افہام و تفہیم سے کام لینا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے حامیوں اور کارکنان کا عزم ہے کہ وہ ہر جمہوری و آئینی طریقے سے اپنی حکومت کا دفاع کریں گے اور صوبے کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ صوبے کی اس بدلتی ہوئی سیاسی فضا میں آنے والے دن انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں جہاں سیاسی جماعتیں اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دے رہی ہیں اور عوام کی نظریں بھی اس کشمکش کے ممکنہ نتائج پر مرکوز ہیں۔