LIVE
Loading Breaking News...

بل گیٹس کا مصنوعی ذہانت کی ریگولیشن اور عالمی فریم ورک پر اہم انتباہ

News Image
مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی فریم ورک طے کرنا انتہائی مشکل ہوگا اور سرد جنگ کی جوہری تخفیفِ اسلحہ کی بات چیت سے بھی پیچیدہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اے آئی کمپنیوں کی خود ساختہ ضابطہ بندی پر انحصار کرنے کے بجائے لازمی قانون سازی کریں۔
مائیکروسافٹ کے شریک بانی اور معروف ٹیکنالوجی ماہر بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے سے ایک بار پھر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے لیے عالمی فریم ورک اور ضابطے طے کرنا سرد جنگ کے دوران ہونے والے جوہری ہتھیاروں کے مذاکرات سے بھی زیادہ کٹھن مرحلہ ہوگا۔ ان کا ماننا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک اور اداروں کے درمیان اس جدید ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات اور اس کے تدارک کے طریقوں پر اتفاق رائے پیدا کرنا انتہائی پیچیدہ کام ہوگا۔ حال ہی میں دیے گئے مختلف بیانات میں بل گیٹس نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنیوں کی طرف سے محض خود ساختہ ضابطہ بندی (self-regulation) کافی نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس شعبے میں حکومتوں کی براہ راست مداخلت اور نگرانی انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔ بل گیٹس نے کانگریس پر زور دیا ہے کہ وہ لازمی قانون سازی کرے اور اس ٹیکنالوجی کے خطرات کو کسی بھی صورت نظر انداز یا محض ایک دھوکہ نہ سمجھے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق بل گیٹس کا یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں جنریٹو اے آئی اور خودکار سسٹمز کی ترقی میں بے پناہ تیزی آ چکی ہے۔ بل گیٹس نے پہلے بھی اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر مصنوعی ذہانت کو بغیر کسی روک ٹوک کے کھلا چھوڑ دیا گیا تو یہ انسانیت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے اور ناگفتہ بہ نقصانات کا سبب بن سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں بین الاقوامی سطح پر یہ بحث شدت اختیار کر رہی ہے کہ اے آئی کی ترقی کو کس طرح اخلاقی اور قانونی دائرہ کار میں لایا جائے۔ بل گیٹس کا کہنا ہے کہ تمام بڑی طاقتوں کو مل بیٹھ کر ایک ایسا عالمی لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا جو انسانیت کی بقا کو یقینی بنائے اور ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکے، بصورت دیگر اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔