Business
عالمی منڈی: ٹرمپ کے ایرانی پیشکش مسترد کرنے پر تیل مہنگا اور بانڈز کی فروخت شروع
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی پیشکش کو مسترد کیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس جغرافیائی سیاسی تناؤ کے نتیجے میں عالمی مالیاتی منڈیوں میں بانڈز کی فروخت کا رجحان بھی دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔
عالمی مالیاتی اور توانائی کی منڈیوں میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی پیشکش کو واضح طور پر مسترد کیے جانے کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2.7 فیصد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز کو مسترد کرنا اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے توانائی کی عالمی رس رسد سے متعلق خدات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
اس توانائی کے بحران اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے اثرات براہ راست فکسڈ انکم مارکیٹس پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ عالمی بانڈ مارکیٹ میں ایک بار پھر بانڈز کی فروخت کا شدید رجحان شروع ہو گیا ہے کیونکہ سرمایہ کار بڑھتی ہوئی افراط زر اور ممکنہ معاشی اثرات سے بچنے کے لیے اپنے پورٹ فولیو کو تبدیل کر رہے ہیں۔ امریکی اور یورپی بانڈز پر ییلڈ (منافع کی شرح) میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مارکیٹ کے شرکاء خطرے کے سدباب کے لیے نئے لائحہ عمل پر غور کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، مشرق وسطیٰ کے امور اور تیل کی سپلائی کے حوالے سے مختلف خبریں بھی مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے مبینہ طور پر سعودی تنصیبات پر حملوں کے دعووں نے تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر دھکیل دیا ہے۔ اس کے علاوہ، واشنگتن اور تہران کے درمیان امن مذاکرات کے تعطل کا شکار ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں اضطراب پایا جاتا ہے۔ ابتدائی طور پر کچھ حلقوں میں یہ امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ بات چیت کے ذریعے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کر لیا جائے گا، تاہم حالیہ پیشرفت نے ان تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اسی طرح برقرار رہی تو نہ صرف تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر مہنگائی کا نیا طوفان بھی آ سکتا ہے۔ اس تمام صورتحال میں مرکزی بینکوں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے سخت مانیٹری پالیسیوں کے جاری رہنے کا بھی امکان ہے، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔ سرمایہ کار اب آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر ہونے والی پیشرفت اور امریکی انتظامیہ کے اگلے فیصلوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔