LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی روپیہ اور بانڈز تیل کی قیمتوں اور ایرانی بحران سے متاثر

News Image
مشرق وسطیٰ کے تنازع اور ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات میں تعطل کے باعث بھارتی روپے اور بانڈز شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی مسلسل مداخلت اس صورتحال میں روپے کے لیے ایک مضبوط ڈھال ثابت ہو رہی ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں بھارتی روپے اور بانڈز کی مارکیٹ شدید دباؤ کی لپیٹ میں آ گئی ہے۔ ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات اور مذاکرات میں تعطل کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جس کے براہ راست اثرات بھارتی معیشت پر پڑ رہے ہیں۔ تیل کی درآمدات پر انحصار کرنے والے ملک کے طور پر بھارت کے لیے خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں معاشی چیلنجز میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ حالیہ کاروباری سیشنز کے دوران بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہو کر ننانوے کی نفسیاتی حد کے قریب پہنچ گیا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق مغربی ایشیا کے تنازع کی وجہ سے روپے کی قدر میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے اور یہ بیس پیسے کی کمی کے ساتھ ننانوے اعشاریہ پچانوے کی سطح پر بند ہوا۔ تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ سفارتی محاذ پر معاملات بہتر نہ ہوئے تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جو کہ بھارتی کرنسی کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔ اس کٹھن صورتحال میں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی مداخلت کو معاشی استحکام کے لیے ایک قابل اعتماد سہارا قرار دیا جا رہا ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے کرنسی مارکیٹ میں بروقت مداخلت کی بدولت روپے کو ایک بڑی گراوٹ سے بچایا گیا ہے اور بینک مسلسل اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ روپے کی قدر میں اچانک اور بے قابو گراوٹ نہ آئے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آر بی آئی کی یہ حکمت عملی قلیل مدت میں تو موثر ثابت ہو رہی ہے لیکن اگر عالمی سطح پر تیل کے بحران نے طول پکڑا تو مرکزی بینک کے لیے بھی صورتحال کو سنبھالنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ موجودہ ملکی اور بین الاقوامی اقتصادی منظرنامے میں سرمایہ کار انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بانڈ مارکیٹ میں بھی غیر یقینی صورتحال کے سائے منڈلا رہے ہیں کیونکہ بلند شرح سود اور مہنگائی کے خدشات نے بانڈز کی مانگ کو متاثر کیا ہے۔ حکومت اور مالیاتی اداروں کی نظریں اب مشرق وسطیٰ کی سیاسی صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی رس رسد پر مرکوز ہیں تاکہ آنے والے دنوں میں معاشی پالیسیوں کا قبلہ درست کیا جا سکے اور روپے کی قدر کو مزید زوال سے بچایا جا سکے۔