Business
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ، فیڈرل ریزرو کا مؤقف ذمہ دار
امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود طویل مدت تک بلند رکھنے کی توقعات کے بعد عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں دو فیصد سے زائد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ گولڈ بلین پر دباؤ کی وجہ سے قیمتیں چار ہزار تین سو ڈالر کی سطح سے نیچے آ گئی ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں میں شدید مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے اور جمعرات کو سونے کی قیمتوں میں دو فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس گراوٹ کی بنیادی وجہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کو طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رکھنے کی توقعات ہیں، جس نے سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے امریکی مرکزی بینک کا سخت مؤقف صرافہ مارکیٹ کے لیے دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، شرح سود میں کٹوتی کی امیدیں دم توڑنے کے بعد سرمایہ کار سونے کے بجائے دیگر منافع بخش اثاثوں کا رخ کر رہے ہیں، جس سے پیلے دھات کی قدر میں کمی آئی ہے۔ مختلف مالیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق سونے کی قیمتیں چار ہزار تین سو اور بعض مقامات پر چار ہزار دو سو ڈالر فی اونس کی اہم نفسیاتی حد سے بھی نیچے آ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ تیل کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے بھی عالمی معیشت اور کموڈٹی مارکیٹس کو متاثر کیا ہے۔ اگرچہ بانڈ ییلڈز میں اضافے نے سونے کو عارضی طور پر بڑے بریک ڈاؤن سے بچایا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک فیڈرل ریزرو کی جانب سے نرمی کا کوئی واضح اشارہ نہیں ملتا، سونے کی مارکیٹ میں دباؤ برقرار رہنے کا قوی امکان ہے۔ دوسری جانب تجارتی منڈیوں میں سرمایہ کار اب آئندہ آنے والے امریکی معاشی اعداد و شمار کا انتظار کر رہے ہیں، جو اس بات کا تعین کریں گے کہ مرکزی بینک کا آئندہ مالیاتی لائحہ عمل کیا ہوگا۔ اس تمام صورتحال کے پیش نظر صرافہ مارکیٹ میں غیر یقینی کی فضا چھائی ہوئی ہے اور قلیل مدتی بنیادوں پر سونے کے نرخوں میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے، جس پر عالمی سرمایہ کاروں کی گہری نظر ہے۔