LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا ایران پر حملے منسوخ کرنے کا اعلان، معاہدے کی شرط عائد

News Image
امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور دیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک نے واشنگٹن سے درخواست کی ہے کہ وہ کسی بھی حملے کو روک دے کیونکہ ایک معاہدے کے خوطوط پر اتفاق ہو چکا ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ اعلان اس وقت کیا جب خطے میں کشیدگی عروج پر تھی۔
امریکی صدر نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کو اس شرط پر منسوخ کر دیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک نیا معاہدہ جلد از جلد طے پا جائے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر کا کہنا ہے کہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک نے واشنگٹن سے باضابطہ طور پر درخواست کی تھی کہ وہ کسی بھی طرح کے حملے کو فی الحال روک دے۔ اس کے پیچھے بنیادی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ایک جامع معاہدے کے بنیادی خدوخال اور دائرہ کار پر فریقین کے درمیان پہلے ہی اتفاق رائے ہو چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ اس پیش رفت کو انتہائی غور سے دیکھ رہی ہے اور سفارتی ذرائع کو فعال کر دیا گیا ہے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ امریکہ ہمیشہ امن اور بات چیت کو ترجیح دیتا ہے، بشرطیکہ دوسری طرف سے بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے۔ حالیہ ہفتوں میں مشرق وسطیٰ کے اندرونی حالات اور خطے میں امریکی افواج کی نقل و حرکت کے باعث جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے، جنہیں اب اس ممکنہ سفارتی پیش رفت کے بعد کچھ حد تک ٹال دیا گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ کامیابی کے ساتھ طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ بین الاقوامی تجارت اور تیل کی سپلائی لائنوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے معاہدوں میں فریقین کے درمیان عدم اعتماد ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے، اس لیے آنے والے دن سفارتی سطح پر انتہائی اہم ہوں گے۔ عالمی برادری اور خطے کے دیگر ممالک نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک تمام تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ایرانی حکام کی طرف سے فی الحال اس بیان پر کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن واشنگٹن کے اس اعلان کو ایک اہم سفارتی موڑ قرار دیا جا رہا ہے جو آنے والے وقت میں مشرق وسطیٰ کی سیاست کی سمت کا تعین کرے گا۔