World
گارواघी روڈ پر پروٹسٹنٹ اورینج آرڈر کی پریڈ پولیس نے روک دی
پولیس نے اتوار کی صبح پروٹسٹنٹ اورینج آرڈر کو ایک متنازع اور طے شدہ روٹ پر مارچ کرنے سے روک دیا۔ یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب نیشنلسٹ اکثریتی علاقے گارواघी روڈ پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ہو گئے تھے۔
برطانیہ کے زیر انتظام علاقے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب پولیس نے پروٹسٹنٹ اورینج آرڈر کے اراکین کو ایک انتہائی متنازع روٹ پر پریڈ کرنے سے سختی کے ساتھ روک دیا۔ منتظمین اتوار کی صبح اپنی مقررہ اور طے شدہ پریڈ کرنے سے قاصر رہے کیونکہ اس دوران نیشنلسٹ اکثریتی علاقے گارواघी روڈ پر بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہو چکے تھے اور صورتحال کے خراب ہونے کا خدشہ تھا۔
حکام اور سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور کسی بھی ممکنہ پرتشدد تصادم کو روکنے کے لیے فوری نوعیت کے اقدامات کرنا ناگزیر ہو چکے تھے۔ پولیس نے دونوں فریقین کے درمیان فاصلہ رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کی تھی تاکہ علاقے میں امن بحال رکھا جا سکے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ اورینج آرڈر کے روٹس کا یہ تنازع پرانا ہے اور ماضی میں بھی اس قسم کے مارچز کے دوران دونوں کمیونٹیز کے مابین شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے۔ نیشنلسٹ کمیونٹی کی جانب سے اس متنازع روٹ سے پریڈ گزرنے پر ہمیشہ اعتراضات اٹھائے جاتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے پولیس کو اکثر اس طرح کے سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔
حکام کی جانب سے صورتحال پر مسلسل کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور دونوں گروہوں کے رہنماؤں سے بات چیت کی کوششیں جاری ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے تنازعات سے بچا جا سکے۔ مقامی انتظامیہ نے عوام سے پرامن رہنے اور قانون کا احترام کرنے کی پرزور اپیل کی ہے تاکہ علاقے کا امن تباہ نہ ہو۔