Business
امریکا اور چین کا تجارتی ٹیرف میں کمی کا فیصلہ، نئی فہرست جاری
واشنگٹن اور بیجنگ نے ساٹھ ارب ڈالر کی تجارت پر ٹیرف کم کرنے کے معاہدے کی تفصیلات کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ اہم قدم دونوں ملکوں کے سربراہان کے درمیان ہونے والے سربراہی اجلاس کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
واشنگٹن اور بیجنگ نے باضابطہ طور پر اس بات کا اعلان کر دیا ہے کہ دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان ساٹھ ارب ڈالر مالیت کی تجارت پر ٹیرف میں کمی لائی جائے گی۔ اس سلسلے میں ان اشیا کی فہرست بھی جاری کر دی گئی ہے جن پر تجارتی محصول کم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ پیشرفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطح کے سربراہی اجلاس کے تنا منظر میں سامنے آئی ہے، جس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان جاری تجارتی تناؤ کو کم کرنا اور معاشی تعاون کو مستحکم بنانا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اس معاہدے سے عالمی منڈیوں میں ایک مثبت پیغام گیا ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک کے تجارتی نمائندگان گزشتہ کئی ہفتوں سے اس مفاہمت کو حتمی شکل دینے کے لیے مسلسل مذاکرات کر رہے تھے۔ اب جبکہ سفارش کردہ اشیا کی فہرست جاری کر دی گئی ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان درآمدی اور برآمدی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس قدم سے نہ صرف امریکا اور چین کی معیشتوں کو سہارا ملے گا بلکہ عالمی سپلائی چین پر بھی اس کے خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ دونوں حکومتوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات مستقبل میں مزید تجارتی معاہدوں کی راہ ہموار کریں گے، جس سے عالمی معیشت کو استحکام حاصل ہوگا۔