World
روس کے یوکرین پر حملے، آٹھ ہلاک اور درجنوں زخمی
روس کی جانب سے یوکرین کے مختلف شہروں پر شدید فضائی حملوں کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ ماسکو نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تقریباً چار ہزار ڈرون، بم اور میزائل داغے ہیں۔
یوکرین پر روس کی طرف سے فضائی اور میزائل حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے تازہ ترین نیتجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور درجنوں دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ ان حملوں نے یوکرین کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے اور شہری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ریسکیو ادارے اور طبی عملہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ماسکو کی ان کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مزید دفاعی امداد اور تعاون کی اپیل کی ہے۔ صدر زیلنسکی نے انکشاف کیا ہے کہ روسی فوج نے صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یوکرین کے مختلف علاقوں پر تقریبا چار ہزار ڈرون، فضائی بم اور مختلف اقسام کے میزائل داغے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اندھا دھند حملوں کا مقصد یوکرین کے عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور اہم تنصیبات کو ناکارہ بنانا ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری یہ تنازعہ خطرناک نہج پر پہنچ چکا ہے اور فضائی حملوں کی اس شدت سے عام شہریوں کی زندگیاں شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ جنگ کے اس تازہ ترین دور نے خطے میں امن کی امیدوں کو مزید مدھم کر دیا ہے اور یوکرین میں انسانی بحران کے گہرے ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ عالمی رہنماؤں کی طرف سے اس بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم تحال فائر وال یا جنگ بندی کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔