Politics
خیبر پختونخوا حکومت کا نئی انسداد دہشت گردی پالیسی میں شمولیت کا مطالبہ
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر نئی انسداد دہشت گردی پالیسی میں صوبائی حکومت کی تجاویز کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی مشاورت کے بغیر کوئی بھی پالیسی موثر ثابت نہیں ہو سکتی۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف تشکیل دی جانے والی نئی قومی پالیسیوں میں خیبر پختونخوا کی رائے اور تجاویز کو شامل کیا جانا انتہائی ناگزیر ہے۔ ایک بیان میں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن کا کردار ادا کر رہا ہے، اس لیے صوبائی حکومت کی شرکت اور مشاورت کے بغیر تیار کی گئی کوئی بھی پالیسی زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھے گی۔
علی امین گنڈا پور نے مزید کہا کہ صوبے کی سیکیورٹی صورتحال اور یہاں درپیش چیلنجز سے سب سے زیادہ صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ آگاہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسداد دہشت گردی کے لیے وفاقی سطح پر بننے والے لائحہ عمل میں خیبر پختونخوا کے خدشات اور یہاں کی جغرافیائی صورتحال کو نظر انداز کرنا کسی بھی طور پر مناسب نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ کا ماننا ہے کہ اگر وفاق اور صوبے کے درمیان بہتر ہم آہنگی قائم ہو تو دہشت گردی کے عفریت پر زیادہ موثر طریقے سے قابو پایا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ نے مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل کے لائحہ عمل میں وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ سیکیورٹی اداروں کی فعالیت اور وسائل کی فراہمی پر بات چیت کرے۔ صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے ضروری ہے کہ صوبے کو نہ صرف اعتماد میں لیا جائے بلکہ ان کی سفارشات کو پالیسی کا حصہ بنایا جائے تاکہ امن و امان کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا سکیں۔
حکومتی حلقوں کی جانب سے اس مطالبے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر وفاق اور صوبے کے درمیان بہتر رابطے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے وفاق کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ صوبے کے حقوق اور تجاویز کو پالیسی سازی میں اہمیت دی جائے۔