World
امریکا اور ایران کے درمیان اہم سفارتی رابطے متوقع
امریکا اور ایران پیر یا منگل کے روز ثالث کاروں کے ذریعے الگ الگ مذاکرات کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جوہری معاہدے پر دوبارہ بات چیت کی کوششوں کا حصہ ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے سائے میں ایک بڑی سفارتی پیش رفت متوقع ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے حکام پیر یا منگل کے روز ثالث کاروں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کریں گے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نیویارک میں موجود ہیں جہاں وہ مختلف ثالث ممالک کے نمائندوں سے بات چیت کریں گے۔ یہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے عالمی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور فریقین کو سفارتی میز پر لانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ہونے والے سابقہ جوہری معاہدے کو مسترد کرنے اور نئی شرائط کے مطالبے کے بعد صورتحال کافی پیچیدہ ہو چکی ہے۔ ایران پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ جوہری پروگرام کے حوالے سے کچھ اہم رعایتیں دے تاکہ مذاکرات کی بحالی کے لیے راہ ہموار ہو سکے۔ رپورٹوں کے مطابق، تہران کی جانب سے پیش کردہ کچھ ابتدائی تجاویز کو واشنگٹن میں پذیرائی نہیں ملی، جس کے بعد اب عالمی ثالث کاروں کا کردار انتہائی اہم ہو گیا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان خلیج کو کم کیا جا سکے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ ان ملاقاتوں میں آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے میں محفوظ تجارتی راستوں کو یقینی بنانے کے معاملات بھی زیر غور آئیں گے۔ اگرچہ براہ راست مذاکرات کے امکانات تاحال معدوم دکھائی دیتے ہیں، تاہم ثالث کاروں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ایک مثبت پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کا مطالبہ ہے کہ دونوں فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں ان ملاقاتوں کے نتائج ہی یہ طے کریں گے کہ آیا دونوں ممالک کسی مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہو پائیں گے یا پھر تناؤ کی موجودہ لہر مزید شدت اختیار کرے گی۔