LIVE
Loading Breaking News...

بنجمن نیتن یاہو کا خفیہ دورہ متحدہ عرب امارات، تفصیلات سامنے آ گئیں

News Image
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز متحدہ عرب امارات کا ایک خفیہ دورہ کیا ہے جس کی تصدیق اسرائیلی حکام کی جانب سے کی گئی ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال اور سیکورٹی کے معاملات انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز متحدہ عرب امارات کا ایک غیر اعلانیہ اور خفیہ دورہ کیا ہے، جس کی تصدیق خود اسرائیلی حکام کی جانب سے کی گئی ہے۔ اگرچہ اس دورے کے بارے میں سرکاری سطح پر زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم بین الاقوامی میڈیا اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اس پیش رفت کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے نازک موڑ پر کیا گیا ہے جب مشرق وسطیٰ کے خطے میں سفارتی اور سکیورٹی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کا یہ خفیہ دورہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے کیا گیا ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ حال ہی میں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مصر نے اسرائیل کو 7 اکتوبر سے پہلے ہی متنبہ کیا تھا کہ خطے میں کوئی بڑا حملہ ہونے والا ہے۔ ان رپورٹس کے بعد اسرائیلی قیادت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور نیتن یاہو کی حکومت کو اندرونی اور بیرونی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس پس منظر میں متحدہ عرب امارات کا یہ دورہ سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی قربتوں کے تناظر میں، یہ ملاقات کسی بڑے علاقائی اتحاد یا سیکورٹی معاہدے کی کڑی ہو سکتی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اس دورے کا مقصد خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال پر دوست ممالک کے ساتھ مشاورت کرنا تھا۔ نیتن یاہو کا یہ دورہ نہ صرف سفارتی اعتبار سے اہم ہے بلکہ یہ اسرائیلی سیاست میں ان کی پوزیشن کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب عالمی برادری کی نظریں بھی اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ دورہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے میں کوئی کردار ادا کرے گا یا نہیں۔ فی الحال، دونوں ممالک کی جانب سے اس دورے کے ایجنڈے پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے، لیکن آنے والے دنوں میں اس کے اثرات واضح ہونے کا امکان ہے۔ مستقبل قریب میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا اسرائیل اپنے پڑوسی اور اتحادی ممالک کے ساتھ ان خفیہ رابطوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں درپیش سیکورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی نئی حکمت عملی تیار کرتا ہے یا نہیں۔ نیتن یاہو کا یہ دورہ ثابت کرتا ہے کہ اسرائیل اپنی خارجہ پالیسی میں عرب دنیا کے ساتھ تعلقات کو مرکزی حیثیت دیتا ہے اور مشکل وقت میں ان ممالک کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔