LIVE
Loading Breaking News...

چھیاسی سالہ این لشش کا منفرد اقدام، بچپن کا وعدہ پورا کرنے کے لیے باغ عوام کے لیے کھول دیا

News Image
برطانیہ سے تعلق رکھنے والی چھیاسی سالہ این لشش نے نو سال کی عمر میں اپنے والدین کے انتقال کے بعد بچوں کی مدد کرنے کا تہیہ کیا تھا۔ انہوں نے اپنے خوبصورت باغ کو عوام کے لیے کھول دیا ہے تاکہ اس کے ذریعے فنڈز جمع کر کے بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا جا سکے۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والی چھیاسی سالہ این لشش نے اپنی زندگی کے ایک منفرد اور انتہائی خوبصورت مشن کے تحت اپنا قیمتی باغ عوام کے لیے کھول دیا ہے۔ این لشش نے یہ قدم اس وعدے کو پورا کرنے کے لیے اٹھایا ہے جو انہوں نے آج سے کئی دہائیوں پہلے صرف نو سال کی عمر میں خود سے کیا تھا۔ بچپن میں ہی والدین کے سایہ شفقت سے محروم ہو جانے والی این لشش نے اس کڑے وقت میں یہ تہیہ کیا تھا کہ وہ زندگی بھر کسی نہ کسی طرح سے ضرورت مند بچوں کی مدد ضرور کریں گی۔ این لشش کا کہنا ہے کہ بچپن کے اس صدمے نے ان کی پوری زندگی کی سوچ کو بدل کر رکھ دیا تھا اور انہوں نے اپنے لیے یہ نصب العین چنا کہ وہ دنیا کے کسی بھی بچے کو تنہا یا بے سہارا نہیں دیکھنا چاہتیں۔ انہوں نے تہیہ کیا تھا کہ وہ بڑے ہو کر بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گی اور اس پرانے وعدے کو انہوں نے اب عملی جامہ پہنا دیا ہے۔ اپنے اس عزم کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے اپنے شاندار اور دلکش باغ کو عام زائرین کے لیے متعارف کرایا ہے، جہاں لوگ آ کر سیر و تفریح کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ اس باغ کو دیکھنے کے لیے آنے والے افراد سے جو فیس یا عطیات وصول کیے جاتے ہیں، انہیں مکمل طور پر بچوں کی فلاحی تنظیموں اور یتیم خانوں کے نام کر دیا جاتا ہے۔ ان کی اس طویل محنت اور لگن کو اب مقامی سطح پر زبردست پذیرائی مل رہی ہے اور لوگ دور دراز کے علاقوں سے اس خوبصورت باغ کی سیر کے لیے آ رہے ہیں۔ این لشش کا یہ عمل اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگر ارادہ پختہ ہو تو انسان کسی بھی عمر میں اپنے خوابوں اور وعدوں کو سچ کر سکتا ہے۔ ان کی اس داستان نے نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ سوشل میڈیا پر دنیا بھر کے افراد کے دل جیت لیے ہیں اور وہ ایک زندہ مثال بن گئی ہیں کہ کس طرح ذاتی دکھ کو ایک مثبت اور سماجی طاقت میں بدلا جا سکتا ہے۔