Business
سونے اور چاندی کی قیمتوں میں گراوٹ، سرمایہ کاروں کی تشویش
امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کے باعث سونے اور چاندی کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ بانڈ یلڈز میں اضافے کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا رجحان قیمتی دھاتوں سے ہٹ کر دیگر اثاثوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں رواں ہفتے سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی ٹریژری بانڈ یلڈز میں مسلسل اضافہ ہے۔ سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کو بلند رکھنے اور مستقبل میں مزید اضافے کے امکانات نے قیمتی دھاتوں کی چمک کو ماند کر دیا ہے۔ جب بانڈز پر منافع بڑھتا ہے تو سونا اور چاندی جیسے غیر منافع بخش اثاثوں کی کشش کم ہو جاتی ہے، کیونکہ سرمایہ کار زیادہ محفوظ اور منافع بخش سرکاری بانڈز کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق حالیہ اعداد و شمار اور امریکی مرکزی بینک کے حکام کے بیانات سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے فیڈرل ریزرو سخت مانیٹری پالیسی کا تسلسل برقرار رکھے گا۔ شرح سود میں ممکنہ اضافے کی خبروں نے امریکی ڈالر کو مضبوط کیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں سونا اور چاندی خریدنے والے دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے یہ دھاتیں مہنگی ہو گئی ہیں۔ اسی دباؤ کے باعث سونے کی قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ حالیہ ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔
تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں کا انحصار امریکی معیشت کے نئے اعداد و شمار پر ہوگا۔ اگر لیبر مارکیٹ اور مہنگائی کی شرح میں شدت برقرار رہتی ہے تو سونے کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔ فی الحال، مارکیٹ کا مجموعی رجحان محتاط دکھائی دیتا ہے کیونکہ سرمایہ کار کسی بھی بڑی سرمایہ کاری سے قبل فیڈرل ریزرو کی اگلی پالیسی میٹنگ کے فیصلوں کے منتظر ہیں۔ چاندی کی قیمتوں میں بھی اسی طرح کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جہاں صنعتی طلب کے کمزور ہونے اور مانیٹری پالیسی کے سخت اثرات نے اس کی قیمت کو متاثر کیا ہے۔
مجموعی طور پر، عالمی منڈیوں میں جاری یہ ہلچل اس بات کی عکاس ہے کہ کس طرح امریکی مالیاتی فیصلوں کے اثرات براہ راست عالمی کموڈٹی مارکیٹ پر پڑتے ہیں۔ سونے اور چاندی کے خریداروں کے لیے یہ صورتحال اگرچہ تشویشناک ہے، لیکن معاشی تجزیہ کار اسے عالمی منڈی میں جاری ری ایڈجسٹمنٹ کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موجودہ غیر یقینی صورتحال میں احتیاط سے کام لیں اور مارکیٹ کے تکنیکی تجزیوں کو مدنظر رکھ کر اپنے مالی فیصلے کریں۔