World
انگلش چینل میں تارکین وطن کی کشتی حادثہ، 3 افراد جاں بحق
انگلش چینل پار کرنے کی کوشش کے دوران کشتی الٹنے سے ایک دس سالہ بچے سمیت تین خواتین ہلاک ہو گئیں۔ حادثے کا شکار ہونے والی کشتی میں کل 105 افراد سوار تھے۔
انگلش چینل کے پر خطر پانیوں میں تارکین وطن کی ایک اور کشتی حادثے کا شکار ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں تین افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ حکام کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی کشتی میں مجموعی طور پر 105 افراد سوار تھے جو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مرنے والوں میں ایک دس سالہ بچہ اور دو خواتین شامل ہیں جن کی عمریں 30 سال بتائی گئی ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کشتی شدید لہروں اور گنجائش سے زیادہ افراد کے بوجھ کی وجہ سے توازن برقرار نہ رکھ سکی اور حادثے کا شکار ہو گئی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی امدادی ٹیموں اور کوسٹ گارڈ نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا اور کشتی میں سوار دیگر افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے کوششیں تیز کر دیں۔ سمندر میں موجود تارکین وطن کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ ان خطرناک راستوں کو محفوظ بنانے اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ حکام کے مطابق کشتی میں سوار دیگر افراد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ لاشوں کو قانونی کارروائی کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
انگلش چینل کے ذریعے برطانیہ جانے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران اس راستے پر متعدد ہلاکت خیز واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم سرما کے قریب آتے ہی سمندر کی لہریں مزید خطرناک ہو جاتی ہیں، جس سے کشتیوں کے ڈوبنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے تارکین وطن کو ان پر خطر راستوں کا انتخاب نہ کرنے کی بارہا تنبیہ کی گئی ہے، تاہم غربت، جنگ اور بدامنی کے مارے لوگ بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے پر مجبور ہیں۔ فی الحال حکام اس افسوسناک واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ یہ کشتی کہاں سے روانہ ہوئی تھی اور اس کے پیچھے کون سا گروہ ملوث ہے۔