LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا ایئر بیس حملے سے لاتعلقی کا اعلان، برطانیہ کی جوابی کارروائی کی دھمکی

News Image
ایران نے اپنے فضائی بیس پر حملے میں ملوث ہونے کے برطانوی الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ نے ایرانی حمایت یافتہ پراکسی گروپوں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
تہران نے حال ہی میں ایک ایئر بیس پر ہونے والے حملے میں ملوث ہونے کے حوالے سے عائد کیے گئے تمام تر الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں ان قیاس آرائیوں کو 'بے بنیاد اور شرانگیز' قرار دیا گیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ الزامات خطے میں کشیدگی پھیلانے اور ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ایک منظم کوشش ہیں، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تہران نے واضح کیا کہ وہ اس قسم کی اشتعال انگیز کارروائیوں کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی بھی غیر ملکی اڈے پر حملوں کی حمایت کرتا ہے۔ دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر براہ راست تنقید کی ہے۔ برطانوی وزیر نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ خطے میں موجود ایرانی حمایت یافتہ پراکسی گروپوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران ان گروپوں کے ذریعے علاقائی امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے گا تو برطانیہ اور اس کے اتحادی خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ برطانوی حکام کا موقف ہے کہ پراکسیوں کے ذریعے ہونے والی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور اس کے نتائج ایران کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ یہ کشیدگی اس وقت سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی سیاسی بحران اور سکیورٹی خدشات کا شکار ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ برطانیہ اور ایران کے درمیان لفظی جنگ میں تیزی آنے سے خطے میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ عالمی طاقتیں اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم، تہران اور لندن کے مابین بڑھتی ہوئی دوری اس بات کی علامت ہے کہ آنے والے دنوں میں سفارتی محاذ پر مزید سخت بیانات سننے کو مل سکتے ہیں۔ فی الحال، ایران کا اصرار ہے کہ اس پر لگائے گئے الزامات محض سیاسی مقاصد کے لیے گھڑے گئے ہیں، جبکہ برطانیہ اپنی قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر سخت اقدامات کا عندیہ دے رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ تناؤ علاقائی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، اور اب دنیا کو انتظار ہے کہ آیا یہ معاملہ سفارتی مذاکرات کے ذریعے حل ہوتا ہے یا اس کے مزید سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔