World
آبنائے ہرمز میں ایرانی میزائل حملہ، آٹھ امریکی مرینز زخمی
آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی میزائل حملے میں آٹھ امریکی مرینز کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ پینٹاگون کی جانب سے اس واقعے پر تاحال حقائق چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ میڈیا ذرائع نے جانی نقصان کی تصدیق کی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق آبنائے ہرمز کے حساس بحری راستے پر ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں آٹھ امریکی مرینز کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں رونما ہوا ہے جب خطے میں پہلے ہی شدید تناؤ پایا جاتا ہے اور بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو چکا ہے۔ برطانوی اور امریکی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس حملے نے خطے میں امریکی بحری موجودگی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اس حملے کے بعد پینٹاگون کی جانب سے جانی نقصان کے اعداد و شمار کو چھپانے یا کم کر کے پیش کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ امریکی حکام کی جانب سے اس حساس معاملے پر تاحال مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے یا پھر گول مول بیانات دیے جا رہے ہیں۔ تاہم مختلف انٹیلی جنس اور خبر رساں ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حملے کے زد میں آنے والے آٹھوں امریکی مرینز کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور ان کی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
دوسری جانب اس واقعے کے بعد جنوبی ایران کے قریب امریکی بحری ناکہ بندی کی لکیر کو مبینہ طور پر پیچھے ہٹا لیا گیا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم ایرانی حملے کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی خدشات اور امریکی بحریہ کی حکمت عملی میں تبدیلی کا غماز ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل کی ترسیل کے راستوں میں شامل ہے اور اس قسم کے عسکری تصادم عالمی معیشت اور خطے کے امن کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس صورتحال نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور مبصرین کا خیال ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ لائی گئی تو یہ تنازعہ مزید پھیل سکتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری یہ کشمکش اب براہ راست عسکری جھڑپوں کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے جس کے خطے اور دنیا بھر پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ عالمی برادری نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی ذرائع سے معاملات کو حل کرنے کی اپیل کی ہے۔