World
افغانستان پاکستان سرحد: 28 جنگجو ہلاک اور 32 گرفتار
افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان سے سرحد عبور کرنے والے اٹھائیس جنگجوؤں کو ہلاک اور بتیس کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد اور کابل کے درمیان حالیہ جھڑپوں اور الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔
افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے پاکستان سے سرحد عبور کرکے افغانستان میں داخل ہونے والے اٹھائیس جنگجوؤں کو ہلاک جبکہ بتیس کو گرفتار کر لیا ہے۔ کابل انتظامیہ کے مطابق یہ کارروائی ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں کی گئی جہاں مبینہ طور پر سرحد پار سے مسلح افراد نے داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ اس واقعے کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سفارتی اور سرحدی کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی وزارتِ اطلاعات نے افغان طالبان کے ان تمام بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں پاکستان پر نورستان اور کنار کے علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں یا تشدد میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ پاکستانی حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پر الزامات عائد کرنے کے بجائے کابل کو اپنی داخلی سلامتی اور سرحدی انتظام پر توجہ دینی چاہیے تاکہ اس طرح کے ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے۔
اس صورتحال پر بین الاقوامی میڈیا اور علاقائی مبصرین کی جانب سے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستان کے اندرونی حلقوں، بشمول پارلیمنٹیرینز اور صحافیوں نے بعض غیر ملکی میڈیا اداروں کی جانب سے نشر کی جانے والی ان غیر تصدیق شدہ خبروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو بغیر کسی مصدقہ ثبوت کے پاکستان کو افغان جھڑپوں سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے پاکستان اور افغانستان دونوں کو باہمی اعتماد کی بحالی اور قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔ سرحد پار دراندازی کے مسائل کو الزام تراشی کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے موثر انٹیلی جنس شیئرنگ اور دوطرفہ بارڈر مینجمنٹ انتہائی اہم ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔