Politics
وفاقی حکومت اور کے پی حکومت کے درمیان دہشت گردی کے معاملے پر کشیدگی
وفاقی وزراء نے خیبرپختونخوا حکومت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کمزور اور ناکافی اقدامات کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے وفاق کی جانب سے ہونے والی تنقید پر سخت ردعمل دیتے ہوئے صوبائی اقدامات کا دفاع کیا ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی حکومت کے نمائندوں اور وزراء نے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کمزور مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے۔ وفاقی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ ملکی حالات میں تمام اکائیوں کو دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے ایک پیج پر ہونا چاہیے، تاہم کے پی حکومت اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ وفاقی حلقوں کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ صوبائی پالیسیوں اور افغانستان کے حوالے سے مؤقف میں مبہم روش وفاقی سطح پر جاری انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس صورتحال میں وفاق اور صوبے کے درمیان بداعتمادی کی فضا میں اضافہ ہو رہا ہے جو کہ سیکیورٹی کے امور پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور دیگر صوبائی رہنماؤں نے وفاق کی جانب سے عائد کردہ ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے نہایت سخت اور جارحانہ لایحه عمل اپناتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اپنی سر زمین پر امن و امان کے قیام کے لیے ہر ممکنہ قدم اٹھا رہی ہے اور وفاقی حکومت کی جانب سے کی جانے والی تنقید محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے وسائل اور قربانیاں اس بات کی غماز ہیں کہ عوام دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں کھڑے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے اس نازک موڑ پر وفاق اور صوبوں کے درمیان اس قسم کے سیاسی تنازعات اور الزامات کا تبادلہ قومی سلامتی کے مفاد میں نہیں۔ ماہرین کے مطابق دہشت گردی جیسے سنگین اور پیچیدہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے مابین قریبی ہم آہنگی اور باہمی تعاون ناگزیر ہے تاکہ دشمن عناصر کی کسی بھی سازش کو ناکام بنایا جا سکے اور ملک میں دیرپا امن کا قیام یقینی بنایا جا سکے۔