LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور چین کا تجارتی معاہدہ، ٹیرف میں کٹوتی کا اعلان

News Image
امریکہ اور چین نے باہمی تجارت کو فروغ دینے کے لیے ساٹھ ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر ٹیرف میں کمی پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک تیس تیس ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر محصولات کم کریں گے۔
واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں ایک اہم پیشرفت کے تحت دونوں ملکوں نے باہمی رضامندی سے ساٹھ ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر ٹیرف میں نمایاں کٹوتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئے سمجھوتہ کے تحت امریکہ اور چین دونوں ہی تیس تیس ارب ڈالر مالیت کی درآمدی اشیا پر محصولات میں کمی کریں گے، جس سے عالمی منڈیوں میں مثبت پیغامات جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اس فہرست میں زرعی پیداوار، گھریلو استعمال کی اشیا، کھلونے اور कोयلہ سمیت مختلف مصنوعات شامل ہیں جن پر اب کم ٹیرف لاگو ہوگا۔اس دوطرفہ اقدام کا مقصد طویل عرصے سے جاری تجارتی تنازع کی شدت کو کم کرنا اور دونوں معیشتوں کے مابین کاروباری تعلقات کو مستحکم بنانا ہے۔ اگرچہ اس بات چیت اور دو ماہ کی تجارتی جنگ بندی میں توسیع کے باوجود ابتدائی طور پر عالمی سرمایہ کاروں کا ردعمل کچھ حد تک محتاط رہا ہے اور منڈیوں پر فوری طور پر کوئی بہت بڑا جادوئی اثر نہیں دیکھا گیا، تاہم معاشی ماہرین اسے ایک انتہائی مثبت قدم قرار دے رہے ہیں۔اس فہرست میں جہاں کئی زرعی اور گھریلو اشیا کو شامل کیا گیا ہے، وہیں مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین کی جانب سے امریکی زرعی مصنوعات پر ٹیرف میں کمی کے اس فیصلے میں سویا بین جیسی اہم فصلیں فی الحال اس فہرست سے باہر رکھی گئی ہیں۔ اس کے باوجود دونوں سپر پاورز کے درمیان اس قسم کے تجارتی سمجھوتوں کو عالمی معیشت اور سپلائی چین کے تسلسل کے لیے ناگزیر سمجھا جا رہا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں تجارتی ماحول مزید بہتر ہونے کی امید ہے۔