World
انگلینڈ اور ویلز کی مسافر ٹرینوں میں بھیڑ کی صورتحال اور نئی رپورٹس
برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس ٹرینوں میں مسافروں کی اضافی گنجائش یا بھیڑ میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مسافر بردار ٹرینوں کی صلاحیت میں اضافے کو اس بہتری کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانوی حکومت کی جانب سے حال ہی میں جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں چلنے والی مسافر ٹرینوں میں بھیڑ اور گنجائش سے زیادہ مسافروں کے تناسب میں گزشتہ برس کے دوران معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ ریلوے نظام کی صلاحیت میں اضافے کے اقدامات کی بدولت مسافروں کو روزمرہ کی آمدورفت میں کچھ حد تک ریلیف ملا ہے۔ ٹرینوں کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف سطح پر کوششیں جاری تھیں تاکہ رش کو کم کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ مجموعی طور پر صورتحال میں بہتری آئی ہے تاہم اب بھی کئی ایسے روٹس موجود ہیں جہاں مسافروں کو سفر کے دوران شدید رش اور گنجائش کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے ریلوے نیٹ ورک پر دباؤ بدستور برقرار ہے۔ ان مصروف ترین روٹس کی نشاندہی کے بعد ماہرین مزید بہتری لانے کے لیے تجاویز پر غور کر رہے ہیں۔
ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسافر ٹرینوں میں بھیڑ کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ محض عارضی اقدامات سے مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں ہے، اس لیے طویل المدتی منصوبوں پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔ حکومت کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ مسافروں کو محفوظ، باسہولت اور آرام دہ سفر کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے مستقبل میں بھی اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔