LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 108 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہیں۔ سعودی عرب کی پائپ لائن کی بحالی کے بعد اگرچہ قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی ہے لیکن خدشات بدستور برقرار ہیں۔
عالمی منڈی میں توانائی کے شعبے سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے دوبارہ سر اٹھانے کے خدشات کے پیش نظر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور قیمتیں 108 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہیں۔ یہ صورتحال دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی عکاس ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید کشیدہ ہوتی ہے تو توانائی کی عالمی سپلائی لائنز شدید متاثر ہو سکتی ہیں جس سے قیمتوں میں مزید اچھال کا خطرہ ہے۔ تاہم، مارکیٹ کے رجحانات میں اس وقت کچھ ملا جلا رخ دیکھنے میں آیا جب سعودی عرب کی جانب سے اہم پائپ لائن کو دوبارہ فعال کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ذرائع کے مطابق پائپ لائن کی بتدریج بحالی اور پیداوار معمول پر آنے کی خبروں کے بعد تیل کی قیمتیں اپنی ابتدائی بلند ترین سطح سے کچھ نیچے آئیں، جس سے سرمایہ کاروں کو وقتی طور پر ریلیف ملا ہے۔ اس کے باوجود، قدرتی گیس اور خام تیل کے مستقبل کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی ڈیڈ لاک ختم نہیں ہوتا، منڈی میں غیر یقینی کی کیفیت برقرار رہے گی۔ خلیجی خطے سے خام تیل کی ترسیل کے بحال ہونے کے باوجود قیمتوں میں استحکام کے لیے مزید وقت درکار ہوگا۔ تجارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی معیشت پہلے ہی افراط زر کے دباؤ کا شکار ہے اور تیل کی قیمتوں میں اس طرح کے اتار چڑھاؤ صنعتی پیداوار اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو براہ راست متاثر کر رہے ہیں۔ دنیا بھر کے تاجر اور حکومتی ادارے اب اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے تعلقات میں آنے والے دنوں میں کیا پیش رفت ہوتی ہے کیونکہ اس کا براہ راست اثر عالمی توانائی کی مارکیٹ پر پڑے گا۔