World
پرنس جارج کے ایٹن کالج کے سخت اصول اور ضوابط
برطانوی شاہی خاندان کے شہزادے جارج کو ایٹن کالج میں داخلے کے بعد کئی روایتی اور نئے سخت ضابطوں پر عمل کرنا پڑ رہا ہے۔ اسکول میں سمارٹ فونز پر پابندی اور دیگر تعلیمی اصولوں کو سختی سے نافذ کیا جا رہا ہے۔
برطانوی شاہی خاندان کے ممتاز نوجوان رکن اور تخت کے وارث پرنس جارج کو دنیا کے مؤقر ترین تعلیمی اداروں میں سے ایک، ایٹن کالج میں داخلے کے بعد سخت اصولوں اور ضوابط کا سامنا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پرنس جارج کو اسکول کے اندر روایتی اور جدید دونوں قسم کے قوانین کی سختی سے پابندی کرنا پڑتی ہے، جو عام طلباء کے ساتھ ساتھ شاہی بچوں پر بھی یکساں لاگو ہوتے ہیں۔ ان قوانین میں سب سے نمایاں شق ڈیجیٹل ڈیوائسز اور اسکرین ٹائم سے متعلق ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایٹن کالج میں طلباء کو جدید اسمارٹ فونز کے استعمال کی اجازت نہیں ہے، بلکہ اس کے بجائے انہیں روایتی 'برک فونز' (بغیر انٹرنیٹ والے سادہ فونز) استعمال کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد طلباء کو سوشل میڈیا کی دنیا سے دور رکھ کر ان کی پوری توجہ تعلیم اور کھیلوں پر مرکوز رکھنا ہے۔ اس کے علاوہ اسکول کے اندر روایتی تادیبی کارروائیاں بھی کی جاتی ہیں جن میں سخت تعلیمی اصول شامل ہیں، اور اساتذہ کی ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بر وقت تفیتیش کی جاتی ہے۔
شاہی ذرائع کا کہنا ہے کہ پرنس جارج اس ماحول میں خود کو ڈھال رہے ہیں اور ان اصولوں کو شاہی خاندان کی جانب سے بھی سراہا گیا ہے کیونکہ یہ عام بچوں کی طرح ان کی عام زندگی کو محفوظ بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ پرنس جارج کی تعلیمی سرگرمیوں پر نہ صرف شاہی جوڑے کی کڑی نظر رہتی ہے بلکہ ایٹن کالج کی انتظامیہ بھی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ تمام طلباء یکساں ماحول میں تعلیم حاصل کریں اور کسی کو بھی شاہی ہونے کی وجہ سے کوئی خصوصی رعایت نہ ملے۔