LIVE
Loading Breaking News...

احمد داؤد اوغلو کا سیاسی سفر اور طیب اردوغان سے تعلق

News Image
ترکیہ کے سابق وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے ملکی سیاست اور جماعت سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، وہ طیب اردوغان کے سیاسی تسلط کو چیلنج کرنے میں ناکام رہنے کے بعد اب عملی سیاست سے کنارہ کش ہو چکے ہیں۔
ترکیہ کی سیاسی تاریخ میں احمد داؤد اوغلو کا نام ایک ایسے رہنما کے طور پر درج ہے جنہوں نے جدید ترک خارجہ پالیسی اور حکمران جماعت کی تشکیل میں انتہائی بنیادی کردار ادا کیا۔ ایک وقت تھا جب وہ ترکیہ کے وزیر اعظم کے منصب پر فائز تھے اور ملک کے سب سے طاقتور رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی فکری اور نظریاتی سوچ نے طیب اردوغان کے ادوارِ حکومت میں ترکیہ کے سیاسی نقشے کو تشکیل دینے میں کلیدی مدد فراہم کی۔ انہوں نے سفارت کاری اور بین الاقوامی امور میں ترکیہ کا قد بلند کرنے کے لیے جو حکمت عملی اپنائی، اس نے انہیں ملک کے صف اول کے سیاستدانوں میں لا کھڑا کیا۔ تاہم، وقت کے ساتھ ساتھ سیاسی حرکیات میں تبدیلیاں رونما ہوتی چلی گئیں اور اقتدار کے ایوانوں میں اندرونی اختلافات نے جنم لیا۔ صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ان کے پالیسی اختلافات اس حد تک بڑھ گئے کہ انہیں اپنے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا۔ اس سیاسی علیحدگی کے بعد انہوں نے اپنی ایک نئی جماعت کی بنیاد بھی رکھی، اس امید کے ساتھ کہ وہ روایتی سیاست کا متبادل فراہم کر سکیں گے اور ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ اس تمام تر جدوجہد اور کوششوں کے باوجود، احمد داؤد اوغلو ترکیہ کے سیاسی منظر نامے پر طیب اردوغان کے گہرے اثر و رسوخ اور مضبوط ووٹ بینک کو سنجیدہ نوعیت کا چیلنج دینے میں ناکام رہے۔ عوامی سطح پر اردوغان کی مقبولیت اور سیاسی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ کوئی بھی نئی قوت اسے کمزور کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ایک طویل سیاسی سفر، عروج اور پھر نبرد آزما ہونے کے مراحل طے کرنے کے بعد، احمد داؤد اوغلو نے عملی اور پارلیمانی سیاست سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ان کا یہ سفر ترکیہ کی عصری سیاست کی پیچیدگیوں، وفاداریوں اور اقتدار کی کشمکش کی ایک واضح اور روشن مثال ہے۔